بچی کا جگرضائع کرنے پرعدالت نے چلڈرن ہسپتال کے پروفیسر طاہر مسعود پر 11لاکھ 45ہزار پاﺅنڈ ہرجانہ عائد کردیا
careless treatment doctors fine court lahore

بچی کا جگرضائع کرنے پرعدالت نے چلڈرن ہسپتال کے پروفیسر طاہر مسعود پر 11لاکھ 45ہزار پاﺅنڈ ہرجانہ عائد کردیا
صارف عدالت کے جج سید خورشید انور نے بچی کے جگر کا صحیح علاج نہ کرنے اور والدین کو پریشان کرنے پر چلڈرن ہسپتال کے پروفیسرڈاکٹر طاہر مسعوداحمد کو 11لاکھ 45ہزار پاؤنڈ کا ہرجانہ بچی کے والدین کو ادا کرنے کا حکم دے دیا جبکہ فرائض میں غفلت برتنے پر پروفیسر کو مزید ایک لاکھ 55ہزار پاؤ نڈ جرمانے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے جبکہ سیکرٹری ہیلتھ کو حکم دیا ہے کہ مذکورہ رقم پروفیسر سے برآمد کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔ صارف عدالت میں گلبرگ کے رہائشی سید علی مرتضیٰ نے چلڈرن ہسپتال کے پروفیسرڈاکٹر طاہر مسعوداحمد کے خلاف 2کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ اس کی بچی کی پیدائش چلڈرن ہسپتال میں ہوئی۔

پیدائش کے بعد بچی کا جگر خراب ہو گیا لیکن ڈاکٹر جگر کی بجائے یرقان کا علاج کرتے رہے جس سے جگر ضائع ہو گیا۔ بچی کو فوری طور پر برطانیہ لے جانا پڑا جہاں اس کانیا جگر ڈلوایا گیا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں ذہنی اذیت پہنچانے پرڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدڈاکٹر ظاہر مسعود احمد کو 1کروڑ 20لاکھ پاکستانی روپے بچی کے ورثا کو ادا کرنے کا حکم دیاہے تاہم عدالت نے فرائض میں غفلت برتنے پر پروفیسر کو مزید 1لاکھ 55 ہزار پاو ¿نڈ جرمانے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو حکم دیا ہے کہ رقم پروفیسر سے برآمد کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔

 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں