حکومت کیپٹن(ر) صفدرکے من پسند افرادکو جج لگانا چاہتی ہے: سپریم کورٹ
captin safdar government supreme court

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز تعیناتی کے مقدمے میں اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جبکہ اعتزاز احسن اور خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقررکیا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزارکے وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا گلگت بلتستان میں چیف جج سمیت تمام جج گلگت بلتستان کونسل تعینات کرتی ہے اور انتظامیہ کی طرف سے جج تعینات کرنا عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔گلگت بلتستان بارکونسل کے وکیل رائے نوازکھرل نے موقف اپنایا کہ بارکونسل نے عدالتی بائیکاٹ کر رکھا ہے، حکومت کیپٹن(ر) صفدرکے من پسند افرادکو جج لگانا چاہتی ہے۔چیف جسٹس نے کہاگلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہونے پرکوئی تنازع نہیں ہے لیکن یہ حساس ترین معاملہ ہے، اس پر کیس کی حد تک گفتگوکریں گے۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہاکہ انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے اور گلگت بلتستان پر ہمسایہ ملک کے ساتھ تنازع چل رہا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہاکہ عدالتی فیصلے سے عالمی فورم پر پاکستان کا موقف مضبوط ہوگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس قانونی پیچیدگی کو حل کرنے کے لیے اعتزاز احسن اور خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقررکررہے ہیں، عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعداٹارنی جنرل کو خود پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ و مردان سے متعلق مقدمات میں کوئٹہ کے شہیدوکلا کے ورثا کی ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے مختص 5 ایکڑ زمین بلوچستان بارکونسل کے نام منتقل کرنے اور بلوچستان حکومت کو مذکورہ زمین ڈیولپ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کو ہدایت کی کہ شہدا اور زخمیوں کے بچوںکی تعلیم اور وکلا کی تربیت کے لیے قائم امدادی فنڈزکو باقاعدہ بنانے کے لیے ایک ماہ کے اندر قواعدکا مسودہ تیارکرکے ایڈووکیٹ جنرل کے حوالے کیا جائے۔عدالت نے مردان بم دھما کے میں شہد ہونے والے وکلا کے لیے معاوضے کے معاملے پرخیبر پختونخوا حکومت سے تحریری جواب طلب کرلیا۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں فل بینچ نے سماعت کی۔عدالت نے کوئٹہ کے شہید وکلا کے اہلخانہ کے لیے سرکاری ملازمتوں کا معاملہ بلوچستان ہائیکورٹ کی کمیٹی کی صوابدید پر چھوڑتے ہوئے آبزرویشن دی کہ نوکری دیتے وقت میرٹ کو نظرانداز نہیں کرسکتے، جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ جس طرح سیاستدان نوکریاں بانٹتے ہیں ہم وہ کام نہیں کریں گے۔عدالت نے سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹرکی بحالی سے متعلق سرکاری ڈاکٹر اور انتظامیہ کے درمیان جاری سرد جنگ پراظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی امور میں مداخلت نہیں کریںگے، سول سرونٹ پر سرکاری حکم ماننا لازم ہے۔عدالت نے بلوچستان میں ہزارہ برادری کے افرادکے قتل کے بارے میں درخواست پر صوبائی ایڈووکیٹ جنرل سے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ کا کہنا تھا ہم سارے کام خود نہیں کرسکتے،اگر ہرکام خودکرنا شروع کردیا تو الزام لگے گا کہ عدلیہ اختیارات سے تجاوزکررہی ہے۔ہزارہ برادری کے درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے،سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق وکلا کو بڑے پیمانے پر معاونت دی گئی لیکن ہزارہ برادری کوکوئی پوچھتا تک نہیں ،جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے صوبائی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ظلم و بربریت ہورہی ہے۔ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے کے اندر بہت ساری تنظیمیں ہیں،80 فیصد مرنے والے افغان باشندے ہیں، اس بارے ان کیمرہ بریفنگ دی جا سکتی ہے،انھوں نے بتایا صوبائی حکومت معاوضہ دینے کے لیے تیار ہے لیکن شہریت کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔عدالت نے آبزرویشن دی کہ امن و امان کا معاملہ ہے، حکومت ہزارہ قبیلے کے شہیدوںکے ورثا کو معاوضہ دے۔سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے مردان کچہری بم حملے میں شہد ہونے والے وکلا کے معاوضے کا معاملہ اٹھایا تو عدالت نے صوبائی حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیا اور سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی جب کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیدکونااہل قراردینے کی درخواست پرسماعت عدالتی بینچ کی عدم موجودگی کے باعث ملتوی کردی گئی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں