بی بی سی کے بعد بھارتی اخبار ’انڈین ٹائمز نے بھی ایم کیو ایم پر بھارت سے پیسے لینے کا الزام لگا دیا
bbc news indian altaf hussain

 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ پر الزامات لگائے گئے تھے کہ ایم کیو ایم بھارتی خفیہ ایجنسی سے فنڈنگ لینے میں ملوث ہے ۔ بی بی سی کے انکشاف کے بعد بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ر’ا‘ نے ایم کیو ایم کے رہنماءمحمد انور کے ذریعے الطاف حسین کو پیسے دیتی رہی ہے ۔

بھارتی اخبار کے مطابق کہا گیا ہے کہ انہوں نے لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ کو دیے گئے بیانات کی دستاویزات حاصل کر لیں ہیں جس کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنماءطارق میر نے لندن پولیس کو بیان دیا ہے کہ الطاف حسین کو محمد انو رکے ذریعے بھارت سے پیسے ملتے تھے ۔ اخبار نے پاکستانی حکام کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ را دبئی کے بینک آر اے کے بینک اور جیسمین ویلی ٹریڈنگ نامی کمپنی کے ذریعے 15 لاکھ ڈالر کی رقم وصول کی تھی جبکہ یہ رقم 2011 ء، 2012ءاور 2013 ءمیں وصول کی تھی ۔ انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ طارق میر نے لندن پولیس کو بتایا ہے کہ ایم کیو ایم اور بھارتی ایجنسی کے حکام کی ملاقاتیں روم کے علاوہ زریوخ ، پراگ اور ویانا میں ہوئی ہوئیں جبکہ بھارتی حکام ملاقات کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب کر کے 2 روز قبل اطلاع کرتے تھے ۔ بھارتی اخبار نے مزید کہا ہے کہ جب اس معاملے پر انہوں نے محمد انور سے رابطہ کیا تو انہوں نےاس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا جبکہ اس سے قبل وہ ان الزامات کی تردید بھی کر چکے ہیں ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں