پنجاب حکومت کا حادثہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کا فیصلہ
bail punjab government accident

پنجاب حکومت نے حادثات کی روک تھام کے لئے جرم 320,109 تعزیرات پاکستان کو قابل ضمانت سے ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کے لئے قانون سازی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اس ضمن میں شیڈول دو ضابطہ فوجداری میں ترمیم کیلئے تجاویز تیار کرلی گئی ہیں جس کے تحت آئندہ ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے اور کم عمر بچے سے ایکسیڈنٹ کے دوران کسی فرد کی موت واقع ہوجانے کی صورت میں اسکا والد بھی جرم میں برابر کا شریک ہوگا.

 لائسنس نہ ہونے یا جعلی ہونے کی صورت میں سزا 10سال کی بجائے عمر قید ہوگی، پبلک ٹرانسپورٹ یا گڈز ٹرانسپورٹ ڈرائیور کے پاس لائسنس نہ ہوگا یا لائسنس جعلی ہوگا تو پھر گاڑی کا مالک بھی ذمہ دار ہوگا، چیف ٹریفک آفیسر طیب حفیظ چیمہ نے ان تجاویز پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اسے پولیس حکام کو منظوری کے لئے بھجوادیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی ہدایت پر اینٹی کرائم اینڈ سپیڈی جسٹس فاؤنڈیشن لاہور نے حادثاتت کی روک تھام کے ڈرائیوروں کے لئے قانون میں ترامیم کے لئے تجاویز تیار کرلی ہیں تاکہ ڈرائیور جرم کو قابل ضمانت ہونے کی بنا پر شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ نہ کھیل سکیں، رپورٹ میں لکھا گیا ہے ۔ متعدد ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کم تنخواہ پر تجربہ کار ڈرائیور رکھے ہیں جو کہ حادثات کا سبب بنتے ہیں، تجاویز میں کہا گیا ہے کہ جرم 320 تعزیرات پاکستان کو قابل ضمانت سے ناقابل ضمانت جرم کردیا جائے اور اس میں شیڈول ٹو ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جائے، جرم 320 کی سزا دس سال مقرر کی جائے لیکن اس کے ساتھ شرط رکھ دی جائے کہ ڈرائیونگ لائسنس جعلی ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں سزا عمر قید ہوگی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں