’’ ہم نے پولیس اور رینجرز کا بھی بندوبست کرلیا ہے اور اگر عدالت نے اجازت دی تو خواجہ برادران کو۔ ۔ ۔‘‘ نیب کا ایسا اعلان کہ ن لیگ میں کھلبلی مچ گئی
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
announces nab

ڈی جی نیب لاہورسلیم شہزادنے کہاہے کہ پیراگون میں خواجہ برادران کیخلاف انکوائری ہورہی ہے ۔ چیئرمین نیب نے خواجہ برادران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئے ہیں،14نومبرکوہم عدالت کووارنٹ گرفتاری کا بتا دیں گے ، ہم نے 14نومبر کیلئے پولیس اوررینجرزکابھی بندوبست کیا ہواہے ،اگرجج نے ہمیں اجازت دی تو ہم سعدرفیق اورسلمان رفیق کو کسی صورت ہائیکورٹ کے احاطہ سے باہر نہیں نکلنے دیں گے ۔

نیب کسی کی پگڑی نہیں اچھالتا،ہمیں ایک دائرے میں رہنا ہوتاہے ۔جب ہم سوال پوچھتے ہیں وہ ان کو پسند نہیں آتے ،ان کو سوالوں کے جواب نہیں آتے تو ہماری غلطیاں نکالتے ہیں۔حمزہ اورسلمان شہباز پردوکیس ہیں۔ رمضان شوگرمل میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا سکینڈل ہے ،اس میں کروڑوں روپے پنجاب حکومت کے لگائے گئے ۔ اس کیس میں گرفتاری کا فیصلہ چیئرمین نیب کریں گے ۔اگرحمزہ اورسلمان شہباز نے کوئی قانونی جواز فراہم کردیا تو بالکل یہ کلیئرہونگے ،اگرنہ دیاتوپھرنیب تو اپنا راستہ بنائے گا۔لالی برج کے حوالے سے ہم ابھی ابتدائی سٹیج پرہیں۔فواد حسن فواد کوشہباز شریف کے سامنے بٹھایاگیاتھا،فوادنے رونا شروع کردیا،اس نے شہباز شریف کوکہاسرجوکچھ کرتا تھا آپ کے حکم پرہی تو کرتا تھا۔وہ اٹھے اور فواد کوتھپکی دی کہ ہاں بس میں نے کہاتھا تم چپ کرو،رومت۔پھرانہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ اس کوباہرلے جائو۔فوادحسن فوادوعدہ معاف گواہ تو نہیں بنے مگر انہوں نے بیان دیا کہ میں نے جو کچھ کیا وزیراعلی کے کہنے پرکیا۔ پرویز الٰہی کا کیس تیزی سے چل رہاہے ،چودھری شجاعت اور مونس الٰہی کا کیس چل رہاہے ،علیم خان کا کیس چل رہاہے ،ان میں سے زیادہ ترکی جائیدادیں ملک سے باہرہیں۔وہاں ہم نے خط لکھے ہوئے ہیں،ہم تنگ پڑجاتے ہیں وہاں ہمیں کوئی جواب نہیں دیتا۔یہ گرفتاری اس لئے نہیں ہوئے کہ نیب کے پاس ابھی تک ریکارڈہی مکمل نہیں ہے ۔خواجہ سعد رفیق کے پارٹنر سلطانی گواہ بننے پرتیارتھے مگر اچانک غائب ہوگئے ۔حکومت میں کون ہے ہمیں نہیں پتہ ہم تو اپنا کام کرتے ہیں،1ارب 20کروڑروپے نیب کوملنے تھے اس گورنمنٹ نے وہ بھی روک دئے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں میں نیب پردبائوتھا،خاص کرپنجاب اورلاہورمیں جو سیٹ اپ تھا اس نے لاہوراور پنجاب کے کیسز کو دبا کررکھا ہواتھا،اسی وجہ سے اب گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے ۔56کمپنیوں،آشیانہ اور ملتان میٹرومیں کرپشن کے حوالے سے سوال پرانہوں نے بتایاکہ ان میں بہت زیادہ کرپشن ہوئی۔ آشیانہ سکینڈل کے حوالے سے ہماری تحقیقات مکمل ہیں،نومبرکے آخرتک ہیڈکوارٹرربھیج دیں گے ۔شہباز شریف کی گرفتاری کی مزید درخواستیں آئینگی،چنیوٹ کے ڈرینیج میں شہباز شریف کا ڈائریکٹو ہے اوریہ غیرقانونی ہے ۔ان کے ماتحت سب افسران بیانات دے گئے ہیں کہ انہیں شہباز شریف نے کہاتھا بنانا ہی بناناہے ۔اس کیس میں شہباز شریف کی گرفتاری کے بہت امکانات ہیں اوربھی دوتین کیسز میں شہبازشریف کی گرفتاری ہوسکتی ہے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں ڈی جی نیب نے کہا کہ انرجی سیکٹرمیں بڑی کرپشن ہوئی،احد چیمہ وعدہ معاف گواہ بننے پرتیارتھے ۔ بابر اعوان کوگرفتار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان پر نندی پور پاور پلانٹ میں تاخیر کرنے کا الزام تھا ، ان کے کیس کے حوالے سے ہمارے پاس تمام شواہد موجود تھے ، اسلئے ان کو گرفتارکرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ۔ پکڑا اس کوجاتا ہے جس کیخلاف شواہد موجود نہ ہوں اور اس کوگرفتار کرکے اس سے شواہد معلوم کئے جاتے ہیں۔ علی عمران کے جوابات مبہم اورسرکاری چیک ذاتی اکائونٹ میں ڈالے گئے ۔آشیانہ کیس مکمل ہوچکا ہے ۔شہباز شریف کیخلاف اس مہینے کے آخر تک ریفرنس فائل ہوجائے گا۔ ضرورت پڑی تو چودھری برادران ،مونس الہی کوحراست میں لیں گے ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں