افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری ،سیاسی رہنما نے دھماکے دار اعلان کردیا
afghan migrants census mpa

رکن صوبائی اسمبلی میر عاصم کرد گیلو نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری ناممکن ہے

مردم شماری سے قبل افغان مہاجرین کا انخلاء ممکن بنایا جائے یا ایسا طریقہ کار واضح کیا جائے کہ انہیں مردم شماری کے عمل سے مکمل طور پر دور رکھنا ممکن ہوسکے یہ کسی ایک انتخابی حلقہ یا ایک سیاسی جماعت یا فرد واحد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے کا اجتماعی مسئلہ ہے جس پر بلوچستان کا مستقبل منحصر ہے افغان مہاجرین مردم شماری میں شامل ہوئے تو صوبے کی پوری ڈیموگرافی تبدیل ہو کر رہ جائے گی اور صدیوں سے یہاں آباد بلوچ ، پشتون قبائل و اقوام اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے آن لائن سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مردم شماری اور افغان مہاجرین کے حوالے سے اپنا فیصلہ مسلط کرے اور نہ ہی ہم کسی کو ایسا کرنے دیں گے یہ صوبے کی بقاء کا مسئلہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان صوبے کی بقاء کے اس اہم مسئلہ پر مخلوط صوبائی حکومت میں شامل تمام جماعتوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اجلاس طلب کرکے ایک جامع پالیسی وضع کریںانہوں نے کہا کہ جو لوگ افغانیوں کو شہریت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم باہر کے لوگوں کو بلا کر اپنا قومی ورثہ ، تہذیب و ثقافت ان کے حوالے کردیں انہوںنے کہا کہ چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین 36برسوں سے یہاں آباد ہیں اور ان کی ایک نسل یہاں پیدا اور جوان ہوئی ہے اگر انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی تو پھر ہمارے تمام وسائل ان کی ملکیت بن جائیں گے لہذا ہم اپنے حقوق پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی کو اپنے وسائل پر قبضہ کرنے دیں گے یہاں کے تمام وسائل یہاں قدیمی طور پر آباد قبائل کی میراث ہیں انہوںنے کہا کہ ہم طویل عرصہ سے افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کر رہے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ انہیں باعزت طور پر اپنے ملک بھجوایا جائے انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے پہلے بھی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور اب پھر بعض عناصر اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کے لئے صوبے کے عظیم اجتماعی مفادات کو سیاسی مفادات پر قربان کرنا چاہ رہے ہیں تاہم انہوںنے کہا کہ بلوچستان کے عوام سیاسی طور پر باشعور ہو چکے ہیں جو ہرگز کسی کو صوبے کے مفادات کو داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دیں گے

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں