”یہ بھارتی چینل کو ان کپڑوں میں بھی انٹرویو دے سکتی تھی کیونکہ۔۔۔“ ڈاکٹر عامر لیاقت نے ریحام خان کی ایسے کپڑے پہنے تصویر شیئر کر دی کہ سوشل میڈیا پر بھونچال آ گیا
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
aamir liaqat reham khan

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان چند روز قبل ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینب بنیں جب انہوں نے اپنی کتاب کی اشاعت کا اعلان کیا اور پھر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک روانہ ہو گئیں۔
ان کی کتاب سے پہلے ہی بھارتی چینل کو دیا گیا ایک انٹرویو ضرور سامنے آ گیا جس میں انہوں نے دل کھو کر عمران خان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی معاملات پر گفتگو کی۔اس انٹرویو کے بعد ریحام خان کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ کچھ لوگوں نے ان کے لباس کو لے کر بھی تنقید کرنے کی کوشش کی اور یہ جان کر آپ حیران ہوں گے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے جب انہوں نے ریحام خان کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے نامناسب بات کہہ دی۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ریحام خان کی ایک تصویر جاری کرتے ہوئے لکھا ”بھارتی چینل کو انٹرویو تو ان کپڑوں میں بھی دیا جا سکتا تھا کیونکہ بقول ان ہی کے ’ لوگ مجھے انڈین ایجنٹ سمجھتے ہیں کیونکہ میں سچ بولتی ہوں‘۔“یہ ٹویٹ سامنے آنے کے لوگوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا اور کسی نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی ہاں میں ہاں ملائی تو کوئی ان کی بات کی مخالفت کرتا نظر آیا۔ رامیش فاطمہ نامی صارف نے لکھا ”کپڑوں میں کیا برائی ہے؟ دوپٹہ لو تب بھی مسئلہ نہ لو تب اعتراض، کبھی رنگ پہ اعتراض، کبھی ڈھنگ پہ، یہ بھی چینل کی پالیسی ہو گی، آپ تو ایسے ہیں نہیں“ اقراءحارث نے لکھا ”حیران کن! آپ سے ایسی ٹویٹ کی توقع نہ تھی“ الیاس احمد نے اقراءکو جواب دیتے ہوئے کہا ”آپ کو اس کے لباس پر دھچکا نہیں لگا! لیکن تصویر پر صدمے میں ہیں، عجیب ہے“ عبداللہ محمدی نے لکھا ”تو کون سا دودھ کا دھلا ہے نوٹنکی“ عائشہ شیخ نے لکھا ”جب کچھ تصاویر کیساتھ آپ کی فیملی کو شامل کیا گیا تو آپ کو بہت برا لگا تھا۔ اس عورت کی بھی دو بیٹیاں ہیں، ہو سکتا ہے ان کو یہ ناگوار گزرے تو کیا آپ اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنا پسند کریں گے؟“یہ ٹویٹ ریحام خان کے نوٹس میں بھی آ ہی گئی جنہوں نے سیدھا سپریم کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ”سپریم کورٹ پوچھے کون کرتا ہے ان گھٹیاں حرکتوں پر اور منافقتوں پر، قوم کو بتائے۔“

 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں