داعش میں شمولیت کیوں اختیار کی؟ جرمن شہری نے ایسی شرمناک وجہ بتادی کہ جان کر آپ کو بھی افسوس ہوگا
young reason join man daish germany

شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم نے مغربی ممالک سے نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کرنے کے لیے کافی عرصہ سے سوشل میڈیا پر موثر انداز میں مہم چلا رکھی ہے جس سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں نوجوان شام جا کر داعش کو جوائن کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک 26سالہ جرمن نوجوان ابراہیم بی بھی گزشتہ سال داعش میں شامل ہونے کے لیے شام جا پہنچا لیکن داعش کے شدت پسندوں نے اسے جاسوس سمجھتے ہوئے گرفتار کر لیا اور تفتیش کے بعد قید کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد ابراہیم داعش کے عقوبت خانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور واپس جرمنی چلا گیا۔
جرمنی میں واپسی پر اسے گرفتار کر لیا گیا اور اب اس پر عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے، ابراہیم بی پر بغداد میں خود کش حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا بھی الزام ہے۔ عدالت میں ابراہیم نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’میں بھی اتنا مذہبی نہیں رہا، حتیٰ کہ مجھے اب بھی ٹھیک طریقے سے نماز پڑھنی نہیں آتی۔ میں نے محض اپنی منگیتر کے گھر والوں کی طرف سے منگنی توڑے جانے پر داعش میں شمولیت اختیار کی کیونکہ منگنی ٹوٹنے کے بعد میں بہت دلبرداشتہ تھا اور جرمنی چھوڑ دینا چاہتا تھا ۔‘‘
ابراہیم نے بتایا کہ ’’جب مجھے داعش میں بھرتی کیا گیا تو وعدہ کیا گیا کہ مجھے 4بیویاں اور ایک مہنگی کار دی جائے گی لیکن جب میں وہاں پہنچا تو مجھے جاسوس سمجھ کر قید کر لیا گیا، قیدخانے میں میرے سامنے ایک قیدی کا سرقلم کیا گیا، اس پر بھی جاسوسی کا الزام تھا۔ بعد میں مجھے بھرتی کرنے والے شخص نے میرے جاسوس نہ ہونے کی ضمانت دی جس پر مجھے رہا کر دیا گیا اور میں بھاگ کر واپس جرمنی آ گیا۔‘‘ابراہیم نے مزید کہا کہ ’’داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اسلام کے نام پر بے وقوف بنا کر لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔ ‘‘

شام کے حالات پر نظر رکھنے والی ہیومن رائٹس تنظیم ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ داعش کے شدت پسند بھاری رقوم، شادیوں اور بڑے عہدوں کا لالچ دے کر مغربی ممالک کے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کر رہے ہیں لیکن جب یہ نوجوان کچھ عرصہ ان کے ساتھ گزارتے ہیں تو ان پر داعش کی اصلیت کھلتی ہے اور پھریہ اپنے گھر واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایس او ایچ آر کے مطابق داعش کے شدت پسندجون 2014ء سے اب تک تنظیم چھوڑ کر فرار ہونے والے 143افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت 22ہزار غیرملکی جنگجو داعش کے ساتھ ملک کرشام اور عراق میں لڑ رہے ہیں۔

 

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں