ڈاکٹر سے گھبرانے والی اس خاتون نے اپنے دانتوں کے خود علاج کے چکر میں کیا کر ڈالا؟جان کر آپ بھی گھبرا جائیں گے
woman treatment doctors teeth

 ڈینٹسٹ کے پاس جانے کے خوف نے خاتون کو دانتوں سے محروم کر دیا۔ 48سالہ اینجی بارلوکی والدہ 25سال قبل منہ کے کینسر کے باعث مر گئی تھی، اینجی کا خیال تھا کہ اس کی والدہ کو ڈینٹسٹ کے غلط علاج کی وجہ سے کینسر ہوا۔ تب سے اینجی ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے خوفزدہ تھی اور کبھی علاج کروانے نہیں گئی۔

40سال کی عمر میں اینجی کے دانت گرنے شروع ہوئے تو اس نے ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی بجائے اپنے علاج کا انوکھا طریقہ دریافت کر لیا۔ اس کا جو بھی دانت گرتا وہ اسے ”سپر گلو“ کے ذریعے واپس منہ میں لگا دیتی۔ سپر گلو کے استعمال کے باعث اینجی کے جبڑے کی 90فیصد ہڈی ضائع ہو گئی۔بعد میں اسے شدید تکلیف کے باعث ڈینٹسٹ کے پاس لیجایا گیا جہاں ڈاکٹر کو اس کے دانت اکھاڑنے پڑے اورپھر اس کے جبڑے میںسوئیاں گاڑ کر ان میں نقلی دانت لگائے گئے۔ اینجی کا کہنا ہے کہ ڈینٹسٹ کے غلط علاج کے باعث میری والدہ محض 34سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھی، میری والدہ نے ڈینٹسٹ سے ایک دانت نکلوایا تھا جہاں اسے کینسر ہو گیا۔ ہمیشہ یہ خوف میرے دماغ میں سمایا رہا ، میں نے خود کو ہمیشہ ڈینٹسٹ کے پاس جانے سے روکے رکھا اور کبھی ڈاکٹر کو فون تک نہیں کیا۔ ڈاکٹرسیرپل ڈجیمل کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے اینجی کے دانت گرنے شروع ہوئے، بعد میں اس نے غلط طریقے سے اپنا علاج کرکے اپنے جبڑے کو ہی تباہ کر لیا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں