سفید ڈبے میں بند تحفہ کھولنے کیلئے اتنے لمبے انتظار کی وجہ اس پر لکھا جملہ تھا
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
wait reason gift

امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے کیتھی اور برانڈن گیون کی شادی کو 9 سال ہوگئے ہیں، مگر جب سے رواں سال مئی تک انہوں نے اپنی شادی کا ایک تحفہ نہیں کھولا تھا جو ایک الماری میں محفوظ رکھا تھا۔

کیتھی گیون نے ایک فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ آخر اس جوڑے نے اس سفید ڈبے میں بند تحفے کو کھولنے کے لیے اتنا انتظار کیوں کیا۔ درحقیقت اس تحفے کے ساتھ ایک لفافہ منسلک تھا جس پر لکھا تھا ' اسے اس وقت تک نہ کھولنا جب تک پہلا جھگڑا نہیں ہوجاتا'۔ 29 اگست کو کیتھی نے فیس بک پوسٹ کی تھی جسے اب تک ہزاروں افراد لائیکس اور شیئر کرچکے ہیں۔ پوسٹ کے مطابق ' نو برسوں کے دوران یقیناً کئی بار بحث، تکرار اور عدم اتفاق ہوا، یہاں تک کہ دونوں نے رشتہ ختم کرنے کے بارے میں بھی سوچا، مگر اس ڈبے کو کبھی نہیں کھولا'۔

مئی میں یہ جوڑا ایک رشے دار کی شادی کے لیے تحفہ خریدنے کے بارے میں سوچ رہا تھا جب کیتھی نے سوچا کہ ہم دونوں کو شادی پر کیا بہترین تحفے نو سال پہلے ملے تھے اور اس وقت ان کے ذہن میں اپنی رشتے دار آنٹی ایلیسن کے بند تحفے کا خیال آیا۔ کتھی کے مطابق اتنے برسوں کے دوران ہمارے اندر اس ڈبے کو کھولنے کے حوالے سے شدید خواہش اور عزم ابھرا تھا مگر ہمیں لگتا تھا کہ اس کو کھولنا ایک طرح سے ہمارے رشتے کی ناکامی کا ثبوت ہوگا، یہی وجہ ہے کہ جب ہم لڑتے یا ایک دوسرے سے عدم اتفاق کرتے تو مل کر معاملہ حل کرلیتے۔ تاہم مئی میں جوڑے نے آخرکار اپنی خواہش کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اسے کھولنے کا فیصلہ کیا تو اس کے اندر سے 2 تحریری نوٹ اور کچھ نقدی سمیت گلاس، ایک گلدان اور دیگر عام استعمال کی اشیاءنکلیں۔ کیتھی کے نام نوٹ پر لکھا تھا کہ وہ اس رقم سے ایک پیزا خریدے جبکہ برانڈن کے نام نوٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ رقم کو پھولوں کو خریدنے کے لیے استعمال کرے۔ مگر اس سامان سے زیادہ یہ تحفہ اس جوڑے کے لیے محبت کی علامت بنا جیسا کیتھی لکھتی ہیں ' نو برسوں تک یہ ڈبہ کئی الماریوں کے اندر پڑا رہا، مگر اس نے ہمیں تحمل، مفاہت، مصالحت اور صبر سے کام لینا سیکھایا'۔

ان کے بقول ' ہماری شادی مضبوط ہوتی چلی گئی کیونکہ ہم بہترین دوست اور ساتھی بن گئے، آج ہم نے یہ ڈبہ کھولنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ آج مجھے احساس ہوا کہ ایک مضبوط اور اچھی شادی کا تعلق ڈبے سے نہیں ہمارے اندر سے ہے'۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں