کیا آپ تھکن، چڑچڑاپن اور موٹاپے کا شکار ہیں؟ یہ خبر ضرور پڑھ لیں
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
treatment obesity irritability

 ہم سمجھتے تھے کہ ادھیڑعمری میں ہارمونز کی کمی کی وجہ سے خواتین ہی تھکی تھکی سی اور پژمردگی کا شکار ہو جاتی ہیں لیکن ایک ماہر ڈاکٹر ایریکا سکوارٹز کا کہنا ہے کہ خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی ادھیڑ عمری میں ہارمونز کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں اور یہ کوئی لاعلاج مرض بھی نہیں ہے، کئی طریقوں سے اس کا علاج ممکن ہے۔

ایریکا اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ عمر کے تمام حصوں میں ہمارے جسم میں ہارمونز کی مقدار میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اور یہ کم یا زیادہ ہوتے رہتے ہیں لیکن ادھیڑ عمری میں ان میں کمی کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔جب ہمارے جسم میں ہارمونز متوازن ہوتے ہیں تو ان کے نتائج بھی بہت حیران کن ہوتے ہیں،ہماری جلد چمکیلی اور تروتازہ ہوتی ہے، ہمارے دماغ بہترین کام کرتے ہیں، ہمیں چیزیں اچھی طرح یاد رہتی ہیں اور ہماری توجہ اچھے سے مرکوز ہوتی ہے، ہمارا وزن اور رویہ مستحکم ہوتے ہیں اور ہم میں جنسی رغبت زیادہ ہوتی ہے۔

لیکن جب ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے تو مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ہمیں کسی بھی چیز پر دھیان دینے میں مشکل پیش آتی ہے، ہم تھک جاتے ہیں اور تھکے ہی رہتے ہیں،ہماری نیند میں بگاڑ آ جاتا ہے،ہمارے اندر جنسی رغبت کم ہو جاتی ہے، ہمارا پیٹ بڑھنے لگتا ہے اور وزن زیادہ ہونے لگتا ہے۔ہمارے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے، ہماری جلد خشک ہو جاتی ہے اور اس پر چھائیاں آ جاتی ہیں۔ ہمارے نظام انہضام مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم دل کی بیماریوں سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ایریکا کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15سالوں میں میں نے جہاں خواتین کے ہارمونز میں آنے والے بگاڑ کا علاج کیا ہے وہیں ان کے شوہروں کا بھی علاج کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خواتین کی مخصوص بیماری نہیں ہے۔ جس طرح خواتین میں ایام حیض کے اختتام کو Menopauseکہتے ہیں اسی طرح یہ عمل مردوں میں بھی ہوتا ہے، مردوں میں اس عمل کے اختتام کوتکنیکی طور پر Andropauseکہتے ہیں۔ لیکن مردوں میں اس عمل کا روپذیر ہونا کبھی توجہ کا مرکز نہیں بنا کیونکہ جن مردوں میں یہ ہوتا ہے وہ اس کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر ایریکا کا کہنا تھا کہAndropauseکے مراحل سے گزرنے والے مردوں کا علاج خواتین کی نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔ انہیں صرف ایک ہارمون”ٹیسٹاسٹرون“ دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ مردوں کو باقاعدگی سے اپنے ٹیسٹاسٹرون ہارمون کا لیول چیک کروانا چاہیے اور اگر اس میں کمی واقع ہو جائے تو اس کا علاج کیا جانا چاہیے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں