ہم کیوں روتے ہیں؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
reason cry story

ایک مرتبہ اندرون شہر ایک تنگ بازار سے گزرنا ہوا۔

بازار میں ایک تو ویسے ہی بے تحاشا رش تھا۔ دوسرے دکانوں کے آگے قائم ناجائز تجاوزات، گدھا گاڑیوں اور رکشوں نے نقل و حرکت جام کرکے رکھ دی تھی۔یہاں تک کہ پیدل چلنے والوں کا بھی گزرنا محال ہورہا تھا۔ اوپر سے لوگوں اور ٹریفک کا شور، غرض ایک افراتفری کا عالم تھا۔ ایسے میں اچانک ایک بچے کے زور زور سے رونے کی آواز سب شوروغل پر غالب آگئی۔ جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ ایک موٹر سائیکل پر میاں بیوی اور آگے ایک بچہ سوار تھے۔ بچے کے ہاتھ میں کافی سارے کھلونوں کے شاپر تھے جبکہ ماں کے ہاتھ اور موٹر سائیکل کے ہینڈل پر بھی سودا سلف کے شاپر لٹک رہے تھے۔ بچہ زور و شور سے روئے چلا جارہا تھا اور ماں باپ کے سمجھانے اور پیار کرنے کے باوجود چپ ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ پتا یہ چلا کہ وہ اپنی پسند کا ایک اور کھلونا لینے پر بضد تھا اور ماں باپ اس ضد سے باز رکھنے کے لیے اسے منانے کی کوشش کررہے تھے۔ اب معلوم نہیں کہ ان کے پاس وہ مہنگا کھلونا خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے یا کوئی اور بات تھی لیکن بچہ اپنی ضد چھوڑنے کو بالکل تیار نہیں تھا اور مسلسل روئے چلا جارہا تھا۔بہت سے لوگ رک کر دلچسپی سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ آخر کار بچے کے باپ نے تنگ آکر موٹر سائیکل چلانا چاہی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ بچے کا رونا دھونا اور شدت اختیار کرگیا، ساتھ ساتھ وہ موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ پاؤں بھی مارنے لگا تھا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اسے سمجھانا عبث ہے۔ بچے کے باپ کے لیے اتنے رش میں موٹر سائیکل پر لدے سامان اور اس پر سوار بیوی بچے کے ساتھ موٹر سائیکل چلانا اور اسے سنبھالنا ایک مشکل کام ثابت ہورہا تھا۔ اوپر سے سب لوگ یہ معاملہ دیکھ دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے۔ خجالت اور پریشانی نے بچے کے باپ کی حالت غیر کردی اور اس نے بچے کو دو تین تھپڑ رسید کیے مگر اس کا ردعمل بچے کے مزید رونے کی صورت میں نکلا۔ جیسے تیسے اس شخص نے موٹر سائیکل سنبھالی اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔ ایسے اور دیگر کئی واقعات ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ کہیں بچے گھر میں اپنی ضد منوانے کے لیے رونے کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو کہیں سکولوں میں اساتذہ کی مار سے بچنے کے لیے پہلے ہی رونا شروع کردیتے ہیں۔ کہیں مذاق ہی مذاق میں کسی کو اگر اچانک ڈرا دیا جائے تو لوگ (خصوصاً خواتین) روپڑتی ہیں۔ اسی طرح مختلف جذبات مثلاً غم و یاس یا کسی تکلیف میں مبتلا ہوکر لوگوں کی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ اور تو اور اکثر لوگوں کے خوشی کے مواقع پر یا بہت زیادہ ہنسنے کے باعث بھی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ انسان غمی خوشی یا دیگر مواقع پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے وقت رو کیوں پڑتا ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو روتا ہوا اس دنیا میں آتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اس موقع پر رو کر بچہ اپنے جسمانی اعضاء مثلاً پھیپھڑے وغیرہ اور سانس لینے کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔ بعد میں وہ جب تک بولنے کے قابل نہیں ہوجاتا تو اپنی ضروریات جیسے بھوک کے وقت خوراک وغذا کے حصول وغیرہ کے لیے رو کر اپنی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے یا پھر اپنی کسی تکلیف کا اظہار بھی رو کر ہی کرتا ہے۔ جب انسان دنیا سے جاتا ہے تو اس کے پیارے اور چاہنے والے اس کے بچھڑنے کا غم رو کر مناتے ہیں۔ غرض رونا مختلف جذباتی کیفیات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اور یہ ایک فطری رویئے کا نام ہے۔ سائنس دان اس ضمن میں زیادہ پر یقین نہیں ہیں کہ انسان کیوں روتا ہے۔ چارلس ڈارون نے ایک بار کہا تھا کہ ’’جذبات میں بہہ نکلنے والے آنسوؤں کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔‘‘ آج ایک سو پچاس سال گزرنے کے باوجود جذبات کی رو میں بہہ کر رونا انسانی جسم کے حیران کن اسراروں میں سے ایک ہے۔ گو کچھ دیگر انواع بھی درد، تکلیف یا پریشانی کی صورت میں آنسو بہاتی ہیں لیکن یہ صرف انسان ہی ہیں کہ جن کی آنکھیں کسی بھی احساس تلے چھلک پڑتی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے عام طور پر اپنی توجہ حیاتیاتی عمل کے بجائے جذباتی محسوسات پر زیادہ مرکوز رکھتے ہیں۔ ہالینڈ کی ٹلبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ’’ایڈونگر ہوئٹس‘‘ لکھتے ہیں کہ اگر کسی انسان کے معدے میں تتلی پائی جائے تو یہ بات شائد سائنس دانوں کے لیے حیرت انگیز یا دلچسپی کا باعث نہیں ہو گی، بلکہ ان کے لیے محبت جیسے احساسات پر تحقیق کرنا زیادہ دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ پروفیسر ایڈونگر ہوئٹس کی وجہ شہرت ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’صرف انسان ہی کیوں روتے ہیں؟‘‘ بھی ہے۔ رونا صرف اداسی کی علامت ہی نہیں ہے، جیسا کہ پروفیسر ایڈونگر ہوئٹس اور دوسرے ماہرین ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ جذبات و احساسات کے مختلف سلسلوں سے جڑا ایک عمل ہے۔ جن میں ہمدردی سے لے کر حیرت اور غصے سے لے کر غم سمیت بہت سے محسوسات شامل ہیں۔ جب ہم کسی کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو ہمارے اندر کا موسم بہت حسین ہوجاتا ہے، جس کا پتا صرف ہمیں ہی ہوتا ہے، مگر آنسو ایسی چیز ہیں جو دوسروں کو بھی نظر آتے ہیں۔ یہ وہ نئی آگاہی ہے جو رونے کی وجوہات ڈھونڈنے والے محققین کے علم میں اب آئی ہے۔صدیوں تک لوگوں کا خیال تھا کہ آنسو دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس بارے میں 1600ء میں یہ ایک مقبول نظریہ تھا کہ جذبات، خاص طور پر محبت کے جذبات دل کو حرارت پہنچاتے ہیں۔ اس حرارت کو معتدل کرنے کے لیے دل آبی بخارات پیدا کرتا ہے اور دل سے یہ بخارات اوپر سر کی جانب اٹھتے ہیں اور آنکھوں کے پاس پہنچ کر کثیف ہوکر آنسوؤں کی صورت بہہ نکلتے ہیں۔ بالآخر 1662ء میں ڈنمارک کے ایک سائنس دان نیلسن سٹینسن نے دریافت کیا کہ آنسوؤں کا منبع دراصل ’’لیکریمل‘‘ نامی گلینڈ ہے۔ اس دریافت کے بعد ہی سائنس دانوں نے سوچنا شروع کیا کہ آنکھوں سے پھوٹنے والے اس مائع کا ارتقائی فائدہ کیا ہے۔ سٹینسن کا نظریہ یہ تھا کہ آنسو صرف آنکھوں کو نم رکھنے کا ایک طریقہ ہیں۔ اپنی کتاب میں پروفیسر ونگر ہوئٹس نے آٹھ تقابلی نظر یات کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے کچھ تو بالکل مضحکہ خیز ہیں۔ جیسے 1960ء کا یہ نظریہ کر انسان آبی گوریلوں کی ارتقائی شکل ہے اور آنسو انہیں نمکین پانی میں رہنے میں مدد دیتے تھے۔ باقی نظریات بھی بغیر کسی ثبوت کے اس بات پر دلالت کرتے تھے کہ رونا جسم میں موجود فاسد مادے خارج کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو جذباتی یا ذہنی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ نظریہ 1985ء میں ایک حیاتیاتی کیمیا دان ’’ولیم فرے‘‘ نے پیش کیا تھا۔ شواہد مگر کچھ مزید نئے نظریات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جو قرین قیاس ہیں۔ ان میں سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ آنسوؤں کا محرک سماجی تعلقات اور انسانی روابط ہیں۔ انسان اپنی ابتدائی عمر سے ہی رونا شروع کردیتا ہے تاکہ اپنے نزدیک موجود دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرسکے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہیں تو جسمانی طور پر خود کچھ بھی کرنے سے قاصر و معذور اور اپنی ضروریات، جیسے خوراک وغیرہ کے حصول کے حوالے سے لاچار ہوتے ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی ضروریات پورا کرنے کے قابل ہوتے چلے جاتے ہیں مگر پھر بھی بڑے ہوجانے کے باوجود وقت کے دھارے میں بہتے ہوئے دفتاً فوقتاً ہمیں سہاروں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ خاص طور پر ان جذباتی لمحات میں کہ جب ہم اپنے آپ کو تنہا اور بے یارو مددگار پاتے ہیں تو ہم ان سہاروں کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔’’جوناتھن روٹنبرگ‘‘ جو یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں نفسیات کے پروفیسر اور انسانی جذبات و محسوسات کے ایک محقق ہیں، کا کہنا ہے کہ ’’ رونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسرے لوگوں کو یہ بتانا چاہ رہا ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسی مشکل میں پھنس چکا ہے یا کسی ایسی اہم جذباتی کشمکش کا شکار ہے جس سے نکلنا یا جسے حل کرنا، عارضی طور پر ہی سہی، کم از کم اس کی بساط سے باہر ہے‘‘۔ اس موضوع پر نئی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ آنسو تکلیف میں مبتلا شخص کی طرف سے دوسرے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے نکلتے ہیں، جو محض باتوں کے ذریعے اپنی پریشانی دوسروں کو بتانے کی نسبت زیادہ اثر انگیز ثابت ہوتے ہیں۔ فروری 2016ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آنسو لوگوں کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات کو متحرک کردیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تکلیف میں مبتلا ایک روتے ہوئے شخص کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے اس کے لیے اپنے اندر ہمدردی کے جذبات زیادہ محسوس کیے اور جب انہیں اسی شخص کی بغیر آنسوؤں والی تصویر دکھائی گئی تو اس نے ان کے دلوں پر نسبتاً وہ اثر نہیں کیا جو پہلے ہوا تھا۔ سائنس دانوں کو یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ جذبات میں نکلنے والے آنسو ان آنسوؤں سے مختلف ہوتے ہیں جو پیاز چھیلتے وقت آنکھوں سے نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ خامروں (ایک طرح کی پروٹین جو تمام زندہ اجسام میں پائی جاتی ہے اور ایک مخصوص بائیو کیمیکل تعامل میں عمل انگیزی کرتی ہے)، تحمیات (حیاتی کیمیا)، میٹابولیٹیز (ستحول مادہ) اور الیکڑو لائٹس یعنی برق پاش (ایک مادہ جس کے محلول بجلی کی رو کو ایصال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں) کی وجہ سے جو آنسو بنتے ہیں، ان کی نسبت جذبات کی رو میں بہہ نکلنے والے آنسوؤں میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ یہ پروٹین سے بھر پور مواد، جذبات کی وجہ سے نکلنے والے آنسوؤں کو زیادہ چیچپا اور لعاب دار بنا دیتا ہے، جس کی وجہ سے یہ آنسو جلد پر چپک جانے سے چہرے پر بہت آہستگی کے ساتھ بہتے ہیں اور یوں دوسرے لوگوں کی زیادہ توجہ کھینچ لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ آنسو دوسروں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ ’’ہم کمزور اور غیر محفوظ ہیں۔‘‘ اور یہ بات مسلمہ ہے کہ عدم تحفظ کا احساس انسانی روابط میں ایک بہت حساس مسئلہ ہے۔ جب انسان کسی دوسرے انسان کو عدم تحفظ کا شکار دیکھتا ہے تو اس کے اندر کا عدم تحفظ بھی بیدار ہوجاتا ہے اور اس کے اندر اس دوسرے انسان کے لیے ہمدردی کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن میں نیورلوجسٹ برائے انسانی روئیے، مائیکل ٹرمبل کہتے ہیں کہ ’’وقت کے کسی خاص لمحے میں ایک ایسا انقلابی دورانیہ بھی آتا ہے جب آنسو خود بخود دوسروں کے دلوں میں ہمدردی کے جذبات موجزن کر دیتے ہیں۔‘‘ اس بارے میں ایک اور نظریہ جو دلوں کو ذرا کم چھولینے والا ہے، وہ یہ ہے کہ محققین کے نزدیک بڑے بھی بچوں ہی کی طرح آنسوؤں کو اپنی من پسند چیزوں کے حصول کے لیے بطور ایک ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ چاہے وہ ایسا جانتے بوجھتے کریں یا لاشعوری طور پر بے جانے بوجھے، یہ حربہ آزمائیں۔ ’’روٹنبرگ‘‘ کہتے ہیں کہ ’’ہم یہ بات بہت پہلے جان چکے ہیں کہ آنسو دوسروں کے غصے کو بجھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق آنسو پیار کرنے والوں کے جھگڑے کے بیچ ایک لازمی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر جب ایک فریق غلطی پر ہو اور چاہتا ہو کہ دوسرے اسے اس غلطی پر معاف کردیں۔ ایک اور تحقیق جو ’’سائنس‘‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی اور جس کا حوالہ وسیع پیمانے پر دیا جاتا رہا، یہاں تک کہ میڈیا میں بھی اس کے بڑے چرچے ہوئے، یہ بتاتی ہے کہ عورتوں کے آنسوؤں میں ایک ایسا مادہ پایا جاتا ہے جو مردوں کو صنفی کشش کے برعکس، ان کے ہمدردی کے احساس کو زیادہ متاثرومتحرک کرتا ہے۔‘‘ لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ ان سب باتوں اور نظریات کا مطلب کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کی طرف اب سارے محققین کی توجہ مبذول ہورہی ہے۔ ’’رونے‘‘ کے موضوع پر تحقیق کرنے والے دنیا کے چند بڑے ماہرین میں سے ایک ’’مائیکل ٹرمبل‘‘ کہتے ہیں کہ ’’ہم ان لوگوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے جو بالکل نہیں روتے۔‘‘ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آنسو انسانی تعلقات میں اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیں تو پھر وہ لوگ جو کبھی نہیں روتے، کیا وہ کم سماجی روابط رکھتے ہیں؟ جی ہاں، متعدد سرویز اور ریسرچز اس بنیادی بات کی تائید کرتی ہیں۔ جرمنی کی ’’کاسل یونیورسٹی‘‘ کے پروفیسر اور کلینیکل سائکولوجسٹ ’’کورڈ بینیک‘‘ کے بقول جب انہوں نے ایک سو بیس افراد کے بے تکلفانہ ’’تھراپی سٹائل‘‘ انٹرویوز کیے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ جو لوگ نہیں روتے کیا ان لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں جو روتے ہیں، تو ان کی تحقیق کے مطابق ’’نہ رونے والے لوگوں کے اندر اپنے سماجی تعلقات کے کمزور روابط کے تجربات کو دوسرے لوگوں سے بٹانے اور بیان کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔‘‘ آنسو نہ بہانے والے لوگوں میں منفی اور جارحانہ احساسات زیادہ موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ غصہ، غیظ و غضب اور نفرت وغیرہ۔ اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا نہ رونے والے لوگ واقعی دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ابھی تک کی تحقیق سے یہ لگتا ہے کہ شاید رونا محض باہمی مفادات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور ضروری نہیں کہ نہ رونا کوئی غیر صحت بخش چیز ہو اور نہ ہی عملی طور پر ایسے کوئی شواہد ملے ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ رونے سے صحت پر کوئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود روایت یہی چلی آرہی ہے کہ رونا، جذبات کی شدت کے باعث جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے اثرات کا تریاق ہے۔ ’’روٹنبرگ‘‘ کہتے ہیں کہ رونا ایک طرح سے ہمارے جسم کی ورزش ہے جس کے ذریعے وہ دباؤ کی کیفیت سے باہر آنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ ایک تجزیہ کار نے اس موضوع پر گزشتہ ایک سو چالیس برس کے اخبارات و رسائل میں چھپنے والے مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ دریافت کیا کہ 94 فیصد لوگوں کا ماننا یہ تھا کہ رونا جسم و دماغ کے لیے اچھا ثابت ہوتا ہے جبکہ آنسو روک لینے یا پی جانے سے صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ’’روٹنبرگ‘‘ اس تجزیئے کو صرف ایک زیب داستان سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اور سوچ جو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہے، وہ یہ کہ آنسو صرف غم کی کیفیت میں ہی نکلتے ہیں۔ اس بات کو جانچنے کے لیے تحقیق کاروں نے کچھ لوگوں کو ایک لیبارٹری میں ایک غم انگیز فلم دکھائی اور اس کے اختتام پر فوراً ان کے مزاج کو پرکھا گیا تو معلوم ہوا کہ جو لوگ فلم دیکھ کر نہیں روئے تھے ان کی نسبت رونے والے لوگ مزاجاً زیادہ برے حال میں تھے۔ دوسری طرف اس موضوع پر تحقیق کرنے والوں کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جذباتی لمحوں میں رونا اچھا ہوتا ہے کیونکہ اس سے انسان کے اندر جمع ہونے والا غبار باہر نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ رو کر اپنے اندر کے غبار کو نکال باہر کرنا اس سے بہتر ہے کہ آنسوؤں کو پی کر اندر ہی اندر ان میں ڈوب جایا جائے۔ دوسری طرف جب ’’ایڈونگرہوئٹس‘‘ اور ان کے ساتھیوں نے لوگوں کو ایک غم انگیز فلم دکھا کر فوراً ان کے مزاجوں کا تجزیہ کرنے کی بجائے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے وقفے کے بعد ان کے موڈز چیک کیے تو جو لوگ فلم دیکھنے کے دوران روئے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو فلم دیکھنے سے قبل کی نسبت اب جذباتی طور پر زیادہ تروتازہ محسوس کررہے تھے۔ ’’ایڈونگر ہوئٹس‘‘ وضاحت کرتے ہیں کہ جب ہم ایک بار رونے کے فوائد طے کرلیں گے تو یہ ایک مؤثر طریقہ ہوگا جس کے ذریعے ہم جذباتی کشمکش سے بحالی کی طرف آسکیں گے۔ رونے پر ہونے والی یہ تمام تحقیقات ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن آنسوؤں کا اسرار اور اب ان کے متعلق ملنے والے نئے شواہد ان نظریات سے بہت زیادہ اہم ہیں جن پر سائنس دان ماضی میں یقین رکھتے تھے۔ محققین کو اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’ایڈونگرہوئٹس‘‘ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بارے میں ڈارون کا نظریہ بالکل غلط تھا۔ آنسو انسانی فطرت سے عین مطابقت رکھتے ہیں۔ ہم اس لیے روتے ہیں کیونکہ ہمیں دوسرے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں