وقت سے پہلے بڑھاپے کا علاج
premature aging treatment

بڑھاپے کی دو اقسام ہیں، ایک کو جسمانی اور دوسرے کو ذہنی بڑھاپا کہا جا سکتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ دونوں بیک وقت نازل نہیں ہوتے۔جسمانی بڑھاپا پہلے آتا ہے اور ذہنی بڑھاپے کی آمد بعد میں ہوتی ہے۔ جسمانی طور پر زیادہ معمر، بہت سے لوگوں کی ذہنی صحت بھی قابلِ رشک ہوتی ہے۔

جسمانی بڑھاپا تقریباً 40 برس کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ پیدائش سے لے کر 25،30 سال تک جسمانی نشوونما ہوتی رہتی ہے۔ پھر 30 سے 40 سال تک کی عمر کا عرصہ آپ کی صحت کا عروجی عرصہ شمار ہوتا ہے اور اس کے بعد بڑھاپے کی آمد آمد شروع ہو جاتی ہے جو انسان کی موت تک جاری رہتی ہے۔۔۔ جس ذی روح نے زندگی کا مزہ چکھا ہے اس نے لازمی طور پر موت کا مزہ بھی چکھنا ہے۔ اس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں۔ ہاں ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ہم بڑھاپے کی آمد کی رفتار کو اگر چاہیں تو سست کر سکتے ہیں، زیادہ دیر تک ادھیڑ عمری اور بزرگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور ان مشکلات سے پہلو بچا سکتے ہیں جو بڑھاپے کے ساتھ تقریباً لازم و ملزوم سمجھی جاتی ہیں۔ چنانچہ جسمانی اور ذہنی بڑھاپے کی دونوں کیفیات کی پلاننگ ضروری ہے۔۔۔ آیئے ذرا دیکھیں کہ بڑھاپے کے اثرات جسم اور ذہن پر کیا ہوتے ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہمارے بس میں کون کون سی تدابیر ہیں جن کو بروئے عمل لایا جا سکتا ہے۔اس سے پہلے کہ آگے بڑھا جائے ،یہ بھی دیکھنا ہے کہ زندگی اور موت کے بارے میں ہمارا مذہب کیا حکم لگاتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ ہر چیز اللہ کریم کی طرف سے آتی ہے، صدیوں سے متنازعہ فیہ مسئلہ رہا ہے۔ اگر ہر چیز خدا کے حکم سے ہی آنی ہوتی تو تخلیقِ آدم کی ضرورت نہیں تھی۔ فرشتے اور جنات اس کے لئے کافی تھی۔ خدائے لم یزل نے ہمیں ایک محدود مدت کے لئے زمین پر بھیجا ہے اور اس محدود مدت کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ ہماری زندگی اور موت کا لمحہ تو مقرر ہے۔ لیکن ان دونوں لمحات کا بھی ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ اگر پتہ ہے تو یہ کہ زندہ ہوتے ہوئے اور موت کو برحق سمجھتے ہوئے ہماری عمر کا جو درمیانی حصہ ہے اس کو جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی طور پر تروتازہ اور صحت مند رکھیں۔۔۔ یہ عرصہ، جس کی طوالت کی کچھ بھی خبر ہمیں نہیں، اس میں ہم نے حالتِ تندرستی میں رہنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیمار ہونا ہمارا مقدر نہیں۔ تندرست ہونے کی کاوش و کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہر مسلمان بلکہ ہر بنی نوع انسان کو اس عقیدے پر دوٹوک یقین ہونا چاہیے۔  چند سال پہلے تک ایشیائی آبادی کی اوسط عمر 50،60 برس ہوتی تھی اور افریقی آبادی کی 45،50 برس تھی۔ لیکن یورپ اور امریکہ کے اکثر ممالک میں یہی اوسط عمر 70 سال اور اس سے بھی متجاوز تھی۔ جاپان، ایشیاء ہی میں واقع ہے لیکن وہاں انسان کی اوسط عمر 85 سال ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ، ایشیاء اور افریقہ کے خدا جدا جدا ہیں؟۔۔۔ نعوذ باللہ! ایسا نہیں ہے۔۔۔تو اگر خدا ایک ہے، کل کائنات کا مالک ہے اور منصف و عادل ہے تو وہ کرۂ ارض کے مختلف حصوں میں اپنی مخلوق کی عمروں میں یہ تفریق کیوں روا رکھے گا؟ ظاہر ہے یہ تفریق ہماری اپنی پیدا کردہ ہے۔ کچھ برسوں سے ایشیاء میں اور خاص طور پر پاکستان اور بھارت میں اوسط عمر 65،70 برس ہو چکی ہے۔ بلکہ بعض آبادیوں میں تو 80 سال تک چلی جا رہی ہے۔ اس کی وجوہات ہیں۔۔۔ ایک تو ہم نے اکثر وبائی امراض پر قابو پا لیا ہے، دوسرے حفظانِ صحت کے اصولوں پر کاربند ہونا شروع کر دیا ہے، تیسرے اپنی خوراک اور غذاؤں میں تبدیلیاں کر لی ہیں اور چوتھے اپنی جسمانی ورکنگ کی روٹین کو تبدیل کر لیا ہے۔ زیادہ موٹاپے سے گریز، پھلوں اور سبزیوں کی طرف میلان، چربی والی اشیاء سے اجتناب، ہلکی پھلکی ورزش، زندگی کے بعض رویوں میں تبدیلی اور تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگہی پانے میں میڈیا نے ایک بھرپور اور اہم کردار ادا کیا ہے۔بڑھاپا طاری ہونے کی نمایاں علامات اور نشانیاں یہ بتائی جاتی ہیں:
1۔ قوتِ برداشت میں کمی
2۔ورزش کرنے کے بعد تاخیر سے تازہ دم ہونا
3۔صبح 10سے 12بجے تک اور بعد دوپہر 3سے 5بجے تک بے وجہ سستی اور کاہلی کا احساس ہونا
4۔نیند میں خلل
5۔پریشانی، اضطراب اور جذباتیت کی طرف زیادہ میلان
6۔ جسمانی اور اعصابی کمزوری
7۔بینائی کم ہو جانا
8۔ گھٹنوں میں درد
9۔جلد پر جھریاں پڑنے لگنا
10۔نوجوانوں کا آپ کو انکل / آنٹی کہنے لگنا
11۔سر کے بالوں کی کمی اور گنجاپن
12۔جنسی رغبت کا کم ہو جانا
اگر آپ کو درج بالا علامات میں سے چار یا پانچ علامات کا احساس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ’’مائل بہ بزرگی‘‘ ہورہے ہیں!۔۔۔ لیکن یہ علامات آپ کے لئے کسی تشویش کا سبب نہیں بننی چاہئیں۔ یہ سب کچھ ایک فطری عمل ہے۔ وقت کو روک لینا کسی کے بھی بس میں نہیں۔ اس کے علاوہ عمر جوں جوں آگے بڑھتی جائے گی، درج ذیل علامات بھی آپ کو بڑھاپے کا احساس دلانے لگیں گی:
1۔ دانتوں کا گرنا،دانتوں کے درمیان خلا کا زیادہ ہو جانا ٹوتھ پک کا استعمال ناگزیر ہو جانا۔
2۔بھوک کم لگنا، قبض، بواسیر، پتے میں پتھری، جگر وغیرہ کے افعال کی بے ترتیبی۔
3۔ہڈیوں کی کمزوریاں، ریڑھ کی ہڈی اور گردن کے مہروں میں Space آگے پیچھے ہونا، گنٹھیا، چلنے اور واک کرنے میں مشکلات۔
4۔عمل تنفس کی خرابیاں ،دمہ، زکام اور کھانسی۔
5۔ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، ذیابیطس، انجائنا۔
6۔اعصابی نظام میں خلل
7۔مردوں میں جنسی (Sexual) رغبت کم اور عورتوں میں حیض کی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والی منفی تبدیلیاں۔
قارئین کرام سے گزارش کروں گا کہ میں کبھی بھی میڈیکل سائنس کا طالب علم نہیں رہا۔ میرا علم صرف مطالعہ کرنے اور سالہا سال تک اپنے اہل و عیال کی بیماریوں کے دوران ہسپتالوں کے چکر لگانے، حکیموں، ڈاکٹروں اور سرجنوں کی باتیں سننے، ان کے مشوروں سے استفادہ کرنے اور ان سے بنیادی صحت کے سلسلے میں بعض عمومی قسم کے سوال و جواب تک محدود رہا ہے اور یہ کیفیت صرف مجھ تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ میں سے اکثر دوستوں کو یقیناًان مراحل سے سابقہ پڑا ہوگا۔ میں صرف اور صرف اپنے قارئین کی یادداشت تازہ کرنے کے لئے یہ گزارشات کر رہا ہوں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو یاد دہانی کراؤں کہ آپ کی عمر اگر 50 سال سے زیادہ ہو چکی ہے تو آپ بڑھاپے کی راہ پر گامزن ہیں اور اس راستے میں ایسے مقامات کا آنا ناگزیر ہے جن کو سطور بالا میں بڑھاپے کی علامات کا نام دیا گیا ہے۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ ان علامات کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے بعد کیا کیا اقدامات اٹھائے جائیں کہ جب تک زندہ رہیں، زندگی کو انجوائے کر سکیں۔۔۔جہاں تک میں نے مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے اگر درج ذیل باتوں پر عمل پیرا ہوا جائے تو زندگی کے آخری ایام جن کی طوالت و اختصار کا آپ کو کچھ علم نہیں، آرام سے گزر سکتے ہیں:
1۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ 50 برس کے بعد آپ کو اپنی غذا پر خصوصی کنٹرول کرنا چاہئے۔ اس عمر میں چونکہ جسمانی حرکات و سکنات کم ہونے لگتی ہیں اس لئے وزن بڑھ جاتا ہے اور شریانیں سکڑنے لگتی ہیں۔ ایسے میں ہلکی پھلکی غذائیں استعمال کریں۔ سبزیاں اور پھل زیادہ کر دیں۔
2۔ آدھ گھنٹے تک تیز واک معمول بنائیں اور سکول میں ڈرل ماسٹر صاحبان نے جو پی ٹی کی ایکسر سائزیں کروائی تھیں ان پر عمل کریں اور تقریبا 20, 15 منٹ تک یہ ایکسر سائزیں بھی روزانہ کریں۔
3۔ اپنی گزشتہ عمر میں آپ جن بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کا تجربہ آپ کو حاصل ہے تو اگر پھر بھی آپ انہی عوارض میں مبتلا ہو رہے ہیں تو اپنے آپ کو کوسئے کہ آپ اگر موت کو قریب نہیں لا رہے تو موت تک کی عمر کو پہنچنے کے دورانیئے کو مزید ناقابل برداشت بنانے کا جرم کر رہے ہیں۔
4۔سادہ زندگی کے اصول اپنائیں۔ تمباکو نوشی کو بیک وقت تین طلاق دے دیں۔
5۔جنسی (Sexual) معمولات کا گراف بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ عمر کی زیادتی کا سیکس کی کمی سے براہِ راست تعلق ہے۔
6۔غسل خانے اور واش روم کے فرش پر اگر ٹائلیں لگی ہوئیں ہیں تو ان کو فوراً اکھڑوا دیں اور ان کی جگہ کھردرا فرش ڈلوائیں۔
7۔ ہر تین ماہ بعد اپنا جنرل میڈیکل چیک اپ ضرور کروائیں۔
8۔سب سے آخری لیکن سب سے ضروری بات یہ ہے کہ بڑھاپے کو گوارا کرنے کے لےء اپنی جیب کا خیال رکھیں۔ اتنا مالی بوجھ برداشت کریں جتنا آپ کی ذاتی صحت کی دیکھ بھال سے فالتو ہو اور بچ جائے۔ باقاعدہ ماہوار آمدن کا بندوبست کیجئے۔ کسی بیٹے بیٹی یا بھائی بہن پر بوجھ نہ بنیئے۔ نا گہانی بیماریوں یا سانحات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ایک معقول رقم بطور ریزرو اپنے پاس ضرور رکھیئے۔
ہم میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو یہ حقیقت بھول چکے ہیں جو ایک فلمی گیت میں اس طرح کہی گئی تھی:
ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز
دیکھ لو اس کا تماشا چند روز، چند روز
گیت کے اس مکھڑے میں ’’چند روز‘‘ کا ٹکڑا دو بار کہا گیا۔۔۔ اور یہی بات قرآن حکیم میں بار با فرمائی گئی ہے کہ دُنیا ایک متاعِ غرور ہے اور چند روزہ ہے۔(سورۂ آل عمران۔۔۔ آئت نمبر185)
اور اگر ایسا ہے تو ہمیں اس مختصر عرصۂ حیات کا بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہئے اور یہ فائدہ اُسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب آپ جسمانی طور پر تندرست ہوں۔ آپ کی قلبی،نفسیاتی اور ذہنی صحت کا انحصار جسمانی صحت پر ہے جس پر ہم کمتر توجہ دیتے ہیں اور جوں جوں ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے اور جسمانی تندرستی گھٹتی اور سکڑتی جاتی ہے توں توں ہم اپنی روز افزوں ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبتے جاتے ہیں۔ بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد ہم ان کو اپنے ہاں مقیم کرنے کے کلچر کی ’’سختی سے‘‘ پیروی کرتے ہیں۔ اس کلچر کے کئی مثبت پہلو توہیں، لیکن منفی پہلو زیادہ ہیں۔غیر شادی شدہ بچوں کو دوسرے براعظموں میں بھیج کر ان کو اعلیٰ تعلیم دلانا اور ان کی دائمی جدائی قبول کر لینا ایک بات ہے لیکن شادی کے بعد بچوں کو ایک ہی آنگن میں جمع کر لینا اپنے بڑھاپے کو ذلیل و خوار کرنا ہے۔ جہاں تک ہو سکے، اس روش سے بچنا چاہیے۔کوئی ایسا انسان آج تک ایسا پیدا نہیں ہوا، جس کو کوئی جسمانی عارضہ لاحق نہ ہوا ہو، ایسے میں اولاد، رشتہ دار اور دوست احباب حصہ بقدر جثہ ضرور ڈالتے ہیں اور ان کو ڈالنا بھی چاہئے، لیکن ایک بات ذہن میں بٹھا لینی چاہئے کہ آپ کی عمر میں اضافہ آپ کی مالی ضروریات میں بھی اضافے کا مقتضی ہوتا ہے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ دھوپ نکلے تو گھاس سکھا لینی چاہئے۔۔۔۔ ہماری جوانی اور اوائل ادھیڑ عمری کو اگر ’’دھوپ‘‘ سے تشبیہہ دی جائے تو ہم ’’بغیر دھوپ‘‘ والے طویل موسم میں اُس سوکھی گھاس پر گزارا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ موجود نہ ہو تو انسان کے اندر کا جانور پہلے بھوک سے نڈھال ہو جائے گا اور پھر مر بھی سکتا ہے۔کچھ ایسی ہی بات شیخ سعدی نے بھی کہی تھی۔ گلستاں کی ایک حکائت میں ان کا شعر ملتا ہے جس کا ترجمہ ہے۔’’وہ بے وقوف جس نے دن کے اُجالے میں چراغ جلائے رکھا۔ بہت جلد رات آ جائے گی اور اس کے چراغ میں تیل ختم ہو جائے گا‘‘۔
اہلہی کُو روزِ روشن شمعِ کا فوری نہد
زود باشد کش بہ شب روغن نہ باشددر چراغ
چنانچہ بڑھاپے کے ایام کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ دن کو چراغ نہ جلائیں اور تیل بچا کر رکھیں تاکہ رات کے اندھیارے کو روشن رکھ سکیں۔ یاد رکھئے آپ کے بڑھاپے میں آپ کی جوان اولادیں ضروری نہیں کہ آپ کی حسبِ دلخواہ مالی امداد بھی کر سکیں۔ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ دُنیا سعادت مند اولادوں سے خالی ہو چکی ہے۔ وہ گھرانے خوش نصیب ہیں جن کے بچے، بزرگوں کی دیکھ بھال اپنے بال بچوں سے بھی بڑھ کر کرتے ہیں، لیکن بزرگوں کو اپنے بچوں کی ذمہ داریوں اور مالی تقاضوں کا علم بھی ہونا چاہئے ،اس لئے بڑھاپے سے عہدہ برآ ہونے اور اس آزار کا مقابلہ کرنے کے لئے جب دھوپ چمک رہی ہو تو گھاس سُکھا لیں اور سورج چمک رہا ہو تو شمع گُل کر دیں!

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں