200 پودے انسان کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں؟ خبطی سائنس نے خود کو ہوا بند ٹینٹ میں بند کر لیا۔ غیر متوقع نتیجہ
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
plants human

ایک خود ساختہ خبطی سائنسدان نے خود کو 200 پودوں کے ساتھ ایک ہوا بند پلاسٹک شیٹ کے ٹینٹ میں بند کر لیا۔ یہ سائنسدان صاحب دیکھنا چاہتے ہیں کہ 200 پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں بدل کر کسی انسان کو زندہ رکھنے کےلیے کافی ہیں یا نہیں۔

برٹش کولمبیا، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کرٹس باؤٹ نے پچھلے ہفتے اپنے بھائی کے گھر کے صحن میں خود کو 3 میٹر چوڑے اور 3 میٹر لمبے پلاسٹک کے ٹینٹ میں بند کیا تھا۔ اپنے موجودہ تجربے کا اعلان انہوں نے اگست میں یوٹیوب پر اپنے چاہنے والوں کے سامنے کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اتنے پودے انہیں کم از کم تین دن تک ضروری آکسیجن فراہم کریں گے لیکن 15 گھنٹے بعد ہی انہیں اپنا تجربہ ترک کرنا پڑا۔ 15 گھنٹے بعد ٹینٹ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح اتنی کم ہوگئی کہ کرٹس کے دماغ کو نقصان پہنچنے یا اُن کے کوما میں جانے کا خدشہ پیدا ہوگیاتھا۔ کرٹس کا خیال ہے کہ ابر آلود موسم میں پودے ضیائی تالیف (فوٹو سینتھیسس) کا عمل ٹھیک سے سرانجام نہیں دے سکے اور اسی وجہ سے زیادہ تیزی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ری سائیکل نہیں کر سکے۔ اگرچہ کرٹس کی جان 15 گھنٹے میں ہی خطرے میں پڑ گئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اس تجربے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اصل مقصد تو بدلتے ماحول اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو دیکھنا تھا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں