خاتون کو قبض کی شکایت، اسے معمولی پیٹ درد سمجھتی رہی، بالآخر ڈاکٹر کے پاس گئی تو ایسی وجہ سامنے آگئی کہ زندگی کا سب سے زوردار جھٹکا لگ گیا، اصل معاملہ کیا تھا؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
operation pain treatment

قبض آج کے دور میں بہت عام پایا جانے والا مسئلہ بن چکا ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اسے روزمرہ زندگی کے مسائل کا حصہ سمجھ کر زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ بدقسمتی سے یہ لاپرواہی بہت سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، یہاں تک کہ موت کے منہ میں بھی لے جا سکتی ہے۔
برطانوی خاتون کارلابراڈبیری کے ساتھ بھی ناقابل یقین بدقسمتی کا ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ کارلا کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ عرصے سے قبض کی شکایت تھی لیکن وہ عام ٹوٹکوں سے اس کا علاج کرنے کے لئے کوشاں رہی۔ بالآخر یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا چلا گیا اور انہیں پیٹ میں درد بھی رہنے لگا۔ ایک دن یہ درد برداشت سے باہر ہونے لگا تو وہ ڈاکٹر کے پاس چلی گئیں۔  کارلا کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ قبض کی شکایت لے کر ڈاکٹر کے پاس گئی تھیں، جس نے ابتدائی معائنے کے بعد انہیں گائناکالوجی اور الٹراساﺅنڈ سمیت متعدد ٹیسٹ کروانے کو کہا۔ کارلا نے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ٹیسٹ کروائے، جن کی رپورٹو ں کو وہ دیر تک بغور دیکھتا رہا اور پھر انہیں وہ خبر سنا دی جس نے ان کی زندگی ہی تاریک کر دی۔ کارلا نے اس بدقسمت دن کے بارے میں بتایا ”میرے کانوں میں آج بھی وہ الفاظ گونج رہے ہیں جب ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ مجھے کیسر لاحق ہو چکا تھا۔ یہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکاتھا۔ میری بچہ دانی میں کینسر کی رسولی تھی جس کی جسامت آلوبخارے کے برابر ہو چکی تھی۔ چونکہ یہ بچہ دانی کی دیوار میں پیوست تھی لہٰذا اس کا آپریشن ممکن نہ تھا۔

مجھے اس کے علاج کے لئے کیموتھراپی کے طویل اور دردناک مراحل سے گزرنا تھا۔ کئی ماہ تک میری کیموتھراپی جاری رہی جبکہ ریڈیوتھراپی کے بھی متعدد سیشن ہوئے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ایک دن جب میں ریڈیو تھیراپی کے سیشن کے لئے منتظرتھی تو ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی کہ میرے جسم میں رسولی کا وجود اب باقی نہ تھا۔  مجھے ایک طویل علاج کے بعد اس ناسور سے نجات ملی تھی، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کینسر کی رسولی دوبارہ بن سکتی ہے لہٰذا مجھے باقاعدگی سے معائنہ کرانا ہو گا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ موت مجھے چھو کر گزر گئی، اور میں نہیں جانتی بھی کہ اب بھی میں کس حد تک محفوظ ہوں۔ میں جب بھی تنہا ہوتی ہوں تو میرے ذہن ماضی کی یادوں میں بھٹکنے لگتا ہے اور میں سوچتی ہوں کہ شاید مجھے سے غلطی ہوئی۔ میں جس بیماری کو قبض اور پیٹ درد سمجھتی رہی وہ دراصل کینسر تھا۔ کا ش مجھے بروقت اس کے بارے میں کچھ اندازہ ہو پاتا تو شاید آج میری زندگی بہت مختلف ہوتی۔ “

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں