سائنسدانوں نے لہسن پاﺅں پر لگا کر شاپر چڑھادیا اور پھر۔۔۔ ایسا تجربہ جس کے نتائج دیکھ کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
foots garlic

ہم سمجھتے ہیں کہ لہسن کی بُو بہت تیز ہوتی ہے اور کھانے کے بعد تادیر منہ سے آتی رہتی ہے، لیکن دراصل اس کی بُو ہماری سوچ سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے

اتنی تیز کہ ہم اسے اپنے پیروں کے ذریعے بھی محسوس کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ ہماری جلد میں داخل ہو کر پورے نظام دوران خون میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہمارے منہ اور ناک تک سے آنے لگتی ہے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے گزشتہ دنوں پیروںکے ذریعے لہسن کی بُو محسوس کرنے کا حیران کن تجربہ کیاہے۔ انہوں نے کچھ دیر اپنے پیروں پر لہسن رگڑا اور پھر پلاسٹک بیگ اپنے پیروں پر چڑھا لیے تاکہ لہسن کی بُو کچھ دیر تک پیروں میں رہے۔ سائنسدان یہ دیکھ دنگ رہ گئے کہ ایک گھنٹے بعد پیروں پر رگڑے گئے لہسن کی بُو ان کے منہ اور ناک سے آنے لگی تھی اور وہ اسے سونگھ سکتے تھے۔ یہ تجربہ امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سائنسدانوں ایڈم ڈیلیوسکی اور ڈیرسی جینٹل مین نے کیا ہے۔ لہسن کی اس حیران کن خاصیت کے بارے میں ایڈم اور ڈیرسی کا کہنا تھا کہ ”اس میں ایک کیمیکل پایا جاتا ہے جس کا نام ایلیسین (Allicin) ہے۔ یہ کیمیکل انسان کی جلد کے ذریعے اس کے خون میں داخل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور پھر خون کے ذریعے اس کے منہ اور ناک تک پہنچ جاتا ہے۔ لہسن کی بُو چونکہ اسی کیمیکل کی مرہون منت ہوتی ہے چنانچہ اس کے منہ اور ناک تک پہنچنے پر انسان اسے محسوس کرنے اور سونگھنے کے قابل ہو تا ہے۔مزید براں دونوں سائنسدانوں نے چیونگم کھانے کے بعد پھینکنے کی بجائے اسے منہ میں ہی گھلا ڈالنے کا ایک تجربہ بھی کیا، جو ایسی جگہوں پر انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جہاں آپ چیونگم پھینک نہیں سکتے۔ اس کے لیے آپ کے پاس چاکلیٹ ہونا لازمی ہے۔ ایڈم اور ڈیرسی نے تجربے کے بعد بتایا ہے کہ اگر آپ کہیں چیونگم نہیں پھینک سکتے تو اسے منہ میں ہی رہنے دیں اور چاکلیٹ کھانا شروع کر دیں۔ چیونگم چاکلیٹ کے ساتھ ہی گھل کر آپ کے پیٹ میں پہنچ جائے گی۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ چیونگم میں موجود ربڑ کے اجزا، جو اسے لچکدار بناتے ہیں، ہائیڈروکاربن سے بنتے ہیں اوران اجزاءمیں آکسیجن نہیں ہوتی۔ یہ ہائیڈروکاربن تیل یا پٹرول میں حل ہو جاتا ہے، جبکہ پانی میں اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔ انسان کے تھوک میں چونکہ پانی ہوتا ہے لہٰذا ربڑ کے یہ اجزاءمنہ میں باقی رہتے ہیں۔ تھوک کے برعکس چاکلیٹ میں تیل کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ جب یہ تیل منہ میں جاتا ہے تو ربڑ کے اجزاءاس میں حل ہو جاتے ہیں اور منہ میں چیونگم گھل جاتی ہے۔محسوس کرنے اور سونگھنے کے قابل ہو تا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں