پلک جھپکنے کے دوران دنیا تاریک کیوں نہیں ہوتی؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
eyelashes reason darkness

کیا آپ نے بھی کبھی پلک جھپکنے کے دوران اپنی بینائی میں خلل پیدا ہونے کا تجربہ کیا؟ یا کبھی یہ بات نوٹ کی کہ پبلک جھپکنے کے دوران آپ اندھیرا محسوس نہیں کرتےحالانکہ چند سیکنڈز تک آنکھیں بند رہتی ہیں اور پھربھی ہم پلک جھپکنے سے عین قبل کے لمحات کو ایک مخصوص نقطے میں دیکھ سکتے ہیں۔

آنکھوں میں چمک محض نمی کا موجب نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے آنکھ کی روئیت کے ثبات اور تحفظ میں بھی مدد ملتی ہے۔ پلکیں جھپکنے کے دوران آنکھیں بند ہونے کے باوجود روشنی کا ایک ہالہ دکھائی دینے کی سائنسی وجوہات پر مشتمل ایک رپورٹ حال ہی میں برطانوی اخبار‘ڈیلی میل‘ نے شائع کی۔ اس رپورٹ میں ماہرین نے بتایا کہ جب ہماری آنکھوں میں چمک پیدا ہوتی ہے تو اس وقت دراصل دماغ دماغ آنکھوں کے دیدوں[ڈھیلوں] خود کو اس نقطے پرتوجہ مرتکز کرنے کے لیے تیار کررہا ہوتاہے جسے ہم پلک جھپکنے سے قبل دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب آنکھ میں چمک پیدا ہوتی ہے تو اس وقت آنکھ کا ڈھیلا اپنے مرکز کی طرف لوٹ رہا ہوتا ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ دوبارہ آنکھیں کھولنے پر بھی آپ وہ چیز دیکھ رہے ہوں جو پہلے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بہر کیف آنکھوں کی روئیت میں پیدا ہونے والا یہ معمولی خلل دماغ کو آنکھوں کے پٹھوں کو تیز کرنے اور ہماری روئیت کی تنظیم نو کے اشارات ارسال کرتا ہے۔ ’ڈیلی میل‘ میں شائع یہ تحقیق اس سے قبل سائنسی جریدہ ’کرنٹ بیالوجی‘ میں شائع ہوچکی ہے جسے بیرکلے یوسی یونیورسٹی، سینگا پور کی نانیانگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور پیرس ڈیکارٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے مل کر تیار کیا ہے۔ تحقیقی رپورٹ کے مرکزی مولف اور نانیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں علم نفسیات کے استاد ڈاکٹر گیرٹ موس نے بتایا کہ ’ہمای آنکھوں کے پٹھے بہت آہستہ سے حرکت کرتے ہیں۔ اس لیے دماغ کو مسلسل متحرک اشارات کے ذریعے یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہماری آنکھیں فرضی طورپراسی سمت متوجہ ہیں جس سمت ہم دیکھ رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقی رپورٹ کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ ہمارا دماغ پبلک جھپکنے سے قبل اور بعد کے درمیان فرق کا اندازہ لگا رہا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ آنکھوں کے پٹھوں ضروری تصحیح کے احکامات دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرپلک جھپکنے کے دورانیے میں بھی ہم روشنی اور چمک محسوس نہ کریں تو اس سے ظاہرہوتا ہے کہ ہماری بینائی میں کوئی خلل ہے اور وہ غیرمنظم ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دماغ ایک ہی وقت میں متعدد اطراف میں اپنی تحریک کے ذریعے متبادل تخیلاتی آگاہی کا کام کرتا ہے۔ گویا دماغ اسٹیڈی کیمرے کی طرح کام کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں تمام اطراف پر نظر رکھتا ہے اور ایک ایسے کیمرے کا کردار ادا کرتا ہے جو تمام جہتوں میں حرکت کے دوران وائبریشن کی مزاحمت کا کام دیتا ہے۔ رپورٹ کی تیاری میں ایک تاریک کمرے میں 12 افراد نے رضاکارانہ طور پرحصہ لیا جو دیر تک اسکرین کے ایک نقطے پر توجہ مرکوز رکھنے کے پلک جھپکنے کے دوران پیدا ہونےوالی روشنی [چمک] کا تجربہ کرتے رہے۔ اس دوران انفرا ریڈ کیمروں کی مدد سے ان کی آنکھوں کی حرکت کو نوٹ کیا جاتا رہا۔ وہ جب بھی آنکھ جھپکتے تو ان کے سامنے ایک سینٹی میٹر کانقطہ دائیں جانے حرکت کرتا دکھائی دیتا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں