جب لوگ صبح بیدار ہوتے ہی سب سے پہلے یہ پوچھا کرتے تھے کہ ۔۔۔
  • 0
  • 1

http://tuition.com.pk
early morning asked

جیسا حکمران ہوتا ہے عوام کے اندر بھی ویسی سوچیں پائی جاتی ہیں۔

ملک کے حالات اور فکریں ویسی ترقی پاجاتی ہیں اور لوگ روزمرہ گفتگو میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ گویا حکمران جس انداز اور سوچ کے ساتھ نظام مملکت چلائے گا عوام کے دلوں اور ذہنوں میں ویسا مزاج ترقی پائے گا۔ محققین لکھتے ہیں کہ حجاج بن یوسف اپنے دورمیں سخت سزائیں دیتا تھا،ہر روز کسی نہ کسی کو قتل یا سزائے موت سنائی جاتی تھی۔اس کے زمانے میں جب لوگ صبح کو بیدار ہوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی تو پوچھتے ’گزشتہ رات کون قتل کیاگیا، کس کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا اور کس کی پیٹھ کوڑوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہوئی‘‘ولید بن عبدالمالک کثیر مال و جائیداد والا اور عمارتیں بنانے کا خواہاں تھا۔ چنانچہ اس کے زمانے میں لوگ ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیرات، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔جب سلیمان بن عبدالملک نے ولی عہد کی کرسی سنبھالی تو وہ کھانے پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا چنانچہ لوگ اچھے کھانے، گانے والیوں اور لونڈیوں کے متعلق ایک دوسرے سے پوچھتے اور یہی ان کا موضوع سخن بھی ہوتا۔جب عمر بن عبدالعزیزؓ کا دور آیا تو لوگوں کی آپس میں اس قسم کی گفتگو ہوتی کہ قرآن کتنا یاد کیا، ہر رات کتنا وردکرتے ہو، رات کو کتنے نوافل پڑھتے ہو، فلاں آدمی نے کتنا قرآن یاد کیا اور فلاں شخص مہینے میں کتنے روزے رکھتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں