جن لوگوں کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے عموماً وہ کتنے سال کی عمر میں مر جاتے ہیں، سائنسدانوں کا جواب جان کر آپ کبھی غلطی سے بھی غصہ نہ کریں گے
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
early age reason anger death

کہا تو جاتا ہے کہ غصہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے لیکن اب پہلی بار سائنسدانوں نے غصے کا ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ جان کر ہر کوئی غصہ پی جانے کی عادت اپنانے پر مجبور ہو جائے گا۔

  امریکہ کے سائنسدانوں نے جدید تحقیق میں بتایا ہے کہ ”جو لوگ زیادہ غصہ والے ہوتے ہیں وہ دیگر افراد کی نسبت بہت جلدی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور اس کی وجہ غصے کے وہ منفی اثرات ہیں جو انسانی نفسیات اور جسمانی نظام کار کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں اور ایسے لوگ عموماً35سے 40سال کی عمر میں مر جاتے ہیں۔“ لووا سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ٹیم نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ ”جو لوگ زیادہ غصے والے ہوتے ہیں وہ بے خوابی کا شکار بھی رہتے ہیں اور ان کی نیند کا معیار بھی انتہائی ناقص ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غصے کے احساسات دماغ کے امیگڈیلا (Amygdala)نامی حصے پر شدید اثرات مرتب کرتے ہیں۔ دماغ کا یہ حصہ انسان کی بقاءکی جبلتوں سے منسلک ہوتا ہے۔غصے کے جذبات امیگڈیلا کو ایسے سگنل بھیجتے ہیںجن کی وجہ سے باقی کا دماغ اور جسم پریشانی کی حالت میں اور چوکنا رہتا ہے۔ اس سے دل اور دیگر اعضاءکی طرف خون کا بہاﺅ بھی تیز ہو جاتا ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں اس شخص کو نیند نہیں آتی۔“ سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ”غصے سے انسان ڈپریشن، سردرد، پھیپھڑوں اور دل کے امراض اور نظام انہضام کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب آدمی غصے میں ہوتا ہے تو اس کا جسم خودکار نظام کے تحت خون کی سپلائی کا رخ دیگر اعضاءکی طرف زیادہ بڑھا دیتا ہے ۔ ایسے میں نظام انہضام کی طرف خون کا بہاﺅ انتہائی کم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً اس کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اعضائے رئیسہ کی طرف جانے والی خون کی وریدوں میں کولیسٹرول جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس تمام عوامل کی وجہ سے زیادہ غصہ کرنے والا شخص دوسروں کی نسبت زیادہ بیمار رہتا ہے اور جلد موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔“ سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”غصہ انسانی جبلتوں میں سے ایک ہے اور اسے کلی طور پر ختم کرنا انتہائی مشکل کام ہے تاہم اسے اتنا قابو میں رکھنا چاہیے کہ یہ آپ کے حواس پر حاوی نہ ہونے پائے۔ یہ اس وقت انسانی جسم کے لیے انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے جب اس کی وجہ سے انسان حواس باختہ ہو جائے۔“

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں