جو خواتین 2 سے زیادہ بچے پیدا کریں ان کی۔۔۔ اس کا کیا نقصان ہوتا ہے؟ سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
children scientist health

فیملی پلاننگ کے نقطہنظر سے ’بچے دو ہی اچھے‘ سلوگن تو سننے کو ملتا ہے لیکن اب سائنسدانوں نے بھی اس پر مہرتصدیق ثبت کرتے ہوئے دو سے زائد بچے پیدا کرنے والی خواتین کے لیے سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”جو خواتین 2سے زائد بچے پیدا کرتی ہیں ان کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس خاتون کے جتنے زیادہ بچے ہوں اس کو ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر جان لیوا بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ “اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 45سے 64سال کی عمر کی 8ہزار سے زائد خواتین کے طبی ریکارڈ اور ان کے بچوں کی تعداد کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے جن میں ثابت ہوا کہ جس خاتون کے 5سے زائد بچے ہوں اس کو اگلے 30سالوں میں جان لیوا ہارٹ اٹیک ہونے کا خدشہ 1یا 2بچے پیدا کرنے والی خواتین کی نسبت 40فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ “ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کلیرے اولیور ویلیمز کا کہنا تھا کہ ”حمل اور زچگی کے مراحل خواتین کے دل پر شدید دباﺅ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیدائش کے بعد بھی بچے ماں کے لیے ذہنی دباﺅ اور پریشانی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ اسے ان کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو زیادہ بچے پیدا کرنے کی صورت میں ان کودل اور دماغ کی سنگین بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔“

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں