کیا آپ کو معلوم ہے جینز پر یہ چھوٹے چھوٹے دھات کے بنے ’بٹن‘ کیوں لگائے جاتے ہیں؟
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
button jeans reason

جینز پہننے والے ہر شخص کے ذہن میں کبھی نہ کبھی یہ سوال ضرور آتا ہے کہ جینز کی پتلون پر یہ دھاتی بٹن کیوں لگائے جاتے ہیں۔

جب بظاہر ان کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا تو اکثر لوگ انہیں سجاوٹ یا ڈیزائن قرار دے کر نظر انداز کردیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے بغیر جینز کی پتلون کا تصور ہی ممکن نہیں۔ یہ دھاتی بٹن ہی وہ چیز ہیں کہ جو جینز کی مضبوطی کی اصلوجہ ہیں، اور اگر یہ نہ ہوں تو پتلون کچھ ہی عرصے میں جگہ جگہ چھید ہونے سے بیکارہوجائے گی۔ تقریباً 150 سال قبل مزدور ڈینم سے بنی پتلونیں پہن کر کام کیا کرتے تھے۔ یہ کپڑا نسبتاً مضبوط تو تھا لیکن مزدوروں کے سخت کام کے دوران اکثر پھٹ جایا کرتا تھا۔ ایک مزدور کی بیوی اس مسئلے سے اتنی تنگ آئی کہ وہ مشہور درزی جیک ڈیوس کے پاس گئی اور کہا کہ اس کے میاں کے لئے ایسی پتلون تیار کرے کہ جس کے جلد پھٹنے کا خطرہ نہ ہو۔ جیکب نے کچھ سوچ بچار کے بعد یہ حل نکالا کہ پتلون کے سب سے زیادہ دباؤ کا سامناکرنے والے حصوں پر دھاتی بٹن جڑدئیے جائیں۔ اس نے کام کرنے، اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے حصوں کا اندازہلگایا اور ان پر دھات سے بنے بٹن منڈھ دئیے۔ جیکب کا یہ تجربہ بہت کامیاب ہوا اور جلد ہی اس کے پاس خصوصی پتلونیں بنوانے والے مزدوروں کی قطاریں لگ گئیں۔ان دنوں لیوائی سٹراس کمپنی درزی جیکب کو ڈینم کپڑا فراہم کیا کرتی تھی۔ جیکب نے اس کمپنی کے ساتھ مل کر نئی قسم کی پتلون کا ڈیزائن کمرشل سطح پر متعارف کروایا اور یوں دنیا کی مضبوط ترین پتلون وجود میں آگئی۔ ان دنوں اس پتلون کے لئے جینز کا نام استعمال نہیں ہوا کرتا تھا۔ ڈینم سے بنی دھاتی بٹنوں والی پتلون کا استعمال شروع ہونے کے تقریباً ایک صدی بعد اسے جینز کہا جانے لگا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں