کینسر کو آپ سے ہمیشہ دور رکھنے میں مددگار عادات
  • 0
  • 1

http://tuition.com.pk
soft drinks fast food cancer

کینسر اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والا ایسا جان لیوا مرض ہے جس کا علاج تو ممکن ہے مگر وہ کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب سرطان کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہوجائے۔

اسٹیج تھری یا اس کے بعد علاج سے صحت یابی کا امکان لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے جبکہ موجودہ عہد کا طرز زندگی لوگوں کو اس مرض کا آسان شکار بنارہا ہے۔2018 میں کینسر کے ایک کروڑ 81 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے جن میں سے لگ بھگ ایک کروڑ مریضوں کی موت کا امکان ہے۔مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند معمولی تبدیلیوں کو اپنا کر کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 40 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ (ڈبلیو سی آر ایف) کی تحقیق میں 9 نکاتی پلان بتایا گیا جو کینسر جیسے مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 5 کروڑ سے زائد افراد کی عادات کا تجزیہ کرکے کینسر کا باعث بننے والے عوامل کی نشاندہی کی گئی۔

محققین کے مطابق کینسر کا آسان شکار بننے کی سرفہرست وجہ موٹاپا ہے جس نے تمباکو نوشی کو بھی اس معاملے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یعنی بڑھتے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنا اس جان لیوا مرض کو دور رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے۔ محققین کے مطابق ایسے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ موٹاپا کم از کم 12 اقسام کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں جسمانی طور پر زیادہ متحترک ہونا بھی کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے یعنی کم بیٹھیں اور زیادہ چلیں، جس سے آپ کم از کم 3 اقسام کے کینسر سے محفوظ رہ سکیں گے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ ہفتہ بھی میں کم از کم 150 منٹ تک جسمانی طور پر متحرک رہنا عادت بنائیں اور بیٹھنے کا وقت کم کریں، یہ عادت جسمانی وزن کو کنٹرول رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

اپنی غذا میں اجناس، سبزیوں، پھلوں، دالوں، بیج اور گریوں کی مقدار زیادہ بڑھا دیں، بے وقت بھوک لگنے پر زیادہ چکنائی والی اشیا کی جگہ گیلے یا بیریز کو دے دیں۔

فاسٹ فوڈ اور زیادہ چربی والی غذاﺅں سمیت زیادہ میٹھا کھانے سے گریز کریں، اس طرح کی غذاﺅں کی مقدار محدود کرنے سے کیلوریز کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے وزن صحت مند سطح پر برقرار رہتا ہے۔ زیادہ کیلوریز والی غذاﺅں کا زیادہ استعمال خصوصاً زیادہ چکنائی والی اشیا موٹاپے کا باعث بنتی ہیں اور اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ یہ کینسر کا باعث بننے والی نمبرون وجہ ہے۔

ایسا نہیں کہ اپنی غذا سے گائے یا بکرے کے گوشت کو مکمل طور پر نکال دیں کیونکہ یہ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے مگر اعتدال میں رہ کر کھائیں خصوصاً پراسیس شدہد گوشت کھانے سے گریز کریں۔ تحقیق کے مطابق ہفتہ بھر میں سرخ گوشت کی 350 سے 500 گرام مقدار کھانا صحت مند متوازن غذا کے لیے کافی ہے، اس سے زیادہ کھانا مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

جی ہاں اگر آپ میٹھے مشروبات پینے کے شوقین ہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ اس عادت سے جان چھڑا کر ان کی جگہ پانی اور پھیکے مشروبات کو دیں، تحقیق کے مطابق ہم اکثر یہ نہیں سوچتے کے مشروبات می نبھی کیلوریز ہوتی ہیں خصوصاً سافٹ ڈرنکس میں، جو کہ موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہیں، تو ان کی جگہ چائے یا کافی کو اپنالیں، جس میں چینی کو شامل نہ کریں تو زیادہ بہتر ہے یا اس کی مقدار بہت کم رکھیں۔ اسی طرح پھلوں کا جوس صحت مند اجزا کا ذریعہ تو ہے مگر اس میں مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ پھل کھانے کے مقابلے میں اس کے جوس میں فائبر موجود نہیں ہوتا، تو روزانہ ایک گلاس سے زیادہ جوس پینے سے گریز کریں۔

الکحل کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ خطرناک چیز ہے جسے کبھی زندگی کا حصہ نہیں بنانا چاہئے، اس سے دور رہ کر آپ کم از کم 6 اقسام کے کینسر سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں،اس کی معمولی مقدار بھی کینسر کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی ایسی چیز ہے جس کے نقصانات بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ صحت کے لیے کتنی خطرناک ہے اور متعدد اقسام کے کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔

اپنی جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپلیمنٹس پر انحصار مت کریں بلکہ غذا کو ہی اس کا ذریعہ بنائیں، قدرتی غذا میں وٹامنز اور منرلز کی مقدار سپلیمنٹس کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جیسے ان میں فائبر جیسا جز موجود ہوتا ہے جو معدے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر ہے بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 8 ویں خاتون میں بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ سالانہ 40 ہزار اموات ہوتی ہیں۔ اس سے بچاﺅ کے مختلف طریقے موجود ہیں تاہم خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلا کر بھی اس سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ بریسٹ فیڈنگ سے کینسر سے متعلق ہارمونز کی سطح کم ہوتی ہے جس سے سرطان کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں