فالج کی ایک اور وجہ، سائنسدانوں کی ایک اور تیحقیق
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
reason stroke

 فالج کی ایک اور وجہ، سائنسدانوں کی ایک اور تیحقیق

جولوگ زیادہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے،اس تحقیق کے لیے پانچ لاکھ افراد کا تجزیہ کیا گیا۔  جو لوگ روایتی اوقات صبح 9 سے شام 5 بجے تک کے علاوہ کام کرتے ہیں ان کو فالج ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ معلومات غیر یقینی ہیں لیکن تحقیق کے مطابق تناؤ والے کام آپ کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں انھیں اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 48 گھنٹے کام کرنے والوں میں یہ خطرہ 10 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح 54 گھنٹے کام کرنے والوں میں 27 فیصد اور 55 گھنٹوں سے زائد کام کرنے والوں میں اس کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ 35-40 گھنٹے کام کرنے والے گروپ میں دس سال کے دوران ایک ہزار افراد میں سے پانچ سے بھی کم افراد کو فالج ہوا،55 یا اس سے زائد گھنٹے کام کرنے والیگروپ میں دس سال کے عرصے میں ایک ہزار افراد میں سے چھ لوگوں کو فالج ہوا۔ ڈاکٹر میکا نے تسلیم کیا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے،تحقیق میں کہا گیا ہے کہ زیادہ کام کرنے سے ذہنی دباؤ یا طویل بیٹھک صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور اس سے فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم جن دفاتر میں صحت بخش کھانے اور کھانے کے لیے وقت نہیں ہے یہ بھی ایک خطرے کا نشان ہے۔  صحت مند زندگی گزارنے کے لیے زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان کا بلڈ پریشر نہ بڑھ پائے۔ فالج کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے ڈاکٹر شمیم قادر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل وقت تک کام کرنے کے لیے زیادہ دیر تک بیٹھنا پڑتا ہے جس کے باعث خود کی دیکھ بھال کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے اور اس سے ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔ ہم آپ کو مشورہ دیتے کہ باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کریں اور اگر آپ فالج کے خطرے کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں تو اپنے ڈاکٹر یا ماہر صحت سے وقت لے کر ملاقات کریں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں