اگر آپ کا بھی کوئی موٹا دوست یا رشتہ دار ہے تو یہ خبر ضرور پڑھ لیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ۔۔۔
psychologists disease obesity research

ہمارے معاشرے میں ایک رویہ عموماً پایا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص میں کوئی برائی یا خامی موجود ہو تو ہم بلاوجہ اسے اس کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

مثلاً اگر کوئی شخص موٹاپے کا شکار ہو تو ہم روزمرہ گفتگو میں نہ صرف اسے اس کا احساس دلاتے رہتے ہیں بلکہ اس کے نام کے ساتھ ہی لفظ”موٹا“ کو بریکٹ کر دیتے ہیں۔ ماہرین نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ جس شخص کوتواتر کے ساتھ اس کے موٹاہونے کا احساس دلایا جائے اس کا وزن کم ہونے کی بجائے بتدریج مزید بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار بتانے سے موٹاپے کا شکار شخص پریشانی کا شکار ہوتا ہے اوروہ بددل ہو کر صحت مندلائف سٹائل سے دوری اختیار کر لیتا ہے جس سے وہ مزید موٹا ہو جاتا ہے۔

ماہرین نفسیات نے امریکہ اور برطانیہ کے موٹاپے کا شکار 14ہزار لوگوں کی طویل عرصے تک نگرانی کی۔ انہوں نے دیکھا کہ جن افراد کو بار بار ان کے موٹاپے کا احساس دلایا جاتا رہا وہ مزید موٹے ہوتے چلے گئے۔ ان کے برعکس جن افراد کو یہ احساس نہیں دلایا گیا ان میں سے بیشتر نے موٹاپے پر قابو پا لیا اور اسے ختم یا کم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیورپول یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایرک رابن سن کا کہنا ہے کہ جب کسی کو یقین ہو جائے کہ وہ موٹاپے کا شکار ہے تو یہ اس کے لیے مزید خطرے کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ اس سے متاثرہ شخص پریشانی کا شکار ہو کر زیادہ کھانا شروع کر دیتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں