موسم سرماکی جلدی بیماریاں
problems skins disease winter

سردی کے موسم میں جہاں نزلہ،زکام،کھانسی،بخار سے انفیکشن وغیرہ اور دیگر بیماریاں زیاہ ہوتی ہیں وہاں جلدی بیماریوں کے لحاظ سے بھی یہ موسم نہایت اہم ہے۔

بہت سی ایسی جلدی بیماریاں ہیں جو اس موسم میں شدت پکڑ لیتی ہیں اور اس سلسلے میں خصوصی احتیاط اور بروقت علاج سے ہی انکارتدارک کیا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے جس جلدی بیماری کاذکرخصوصیات سے کیا جائے گا وہ ہے وراثتی چنبل(Atopic Dermatitis) یہ عام طور پر خاندانی بیماری ہوتی ہے یعنی جن لوگوں کے خاندان میں دمہ الرجی چھینکوں کاآنا پرنا نزلہ اور چنبل کامرض موجود ہوتا ہے ان میں یہ زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر چھوٹے بچوں میں شروع ہوتی ہے مگر بڑی عمر میں بھی ہوسکتی ہے۔بچے کی جلد خوش ہوتی ہے اور اس پرشدید خارش ہوتی ہے جس کے نتیجے میں زخم اور انفیکشن پھیل جاتے ہیں۔سردی کاموسم چونکہ جلد کو اور زیادہ خشک کرتا ہے اس لئے خشکی کی وجہ سے یہ بیماری شدت اختیار کرلیتی ہے اس کے لئے ماؤں کے لئے چنداحتیاطی تدابیر یہ ہیں کہ بچے کی جلد کوچکنا رکھیں اس کے لئے بہترین چیز وائٹ پٹرولیم جیلی ہے جسے عرف عام میں سادہ ویزلین بھی کہاجاتا ہے۔ عام جراثیمMedicatedصابن استعمال ہرگزنہ کرین کیونکہ یہ جلد کو اور خشک کرتے ہیں نہ ہی کبھی پانی میں جراثیم کش ادویات یانیم وغیرہ ڈال کر نہلائیں۔نہانے کے بعد گیلے جسم پرہی سادہ ویزلین مل لیں تاکہ جسم کی نمی اُڑنے سے پہلے ہی محفوظ رہے۔سردیوں میں خاص طور پر ہیٹریا آگ کے بالکل سامنے نہ بیٹھیں کیونکہ یہ بھی جلد کومزید خشک کردیتی ہے۔یہی تدابیر بڑوں کے لئے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی جن کووراثتی چنبل تو نہیں مگر ان کی جلد قدرتی طور پر کچھ خشک ہے۔ایسے لوگوں کوبھی سردی کے موسم میں احتیاط کرنا لازمی ہے۔اس کے علاوہ سردی کے موسم میں ایسی بیماریوں بھی بڑھ جاتی ہیں جوOver Crowdingیازیادہ قریط رہنے سے پھیلی ہیں ان میں سب اہم بیماری متعدی خارش Scabiesہے۔یہ خارش جب تیزی سے پھلتی ہے توپورے خاندان بلکہ پورے محلے بلکہ بعض دفعہ پورے کے پورے گاؤں کواپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔یہ بیماری ایک چھوٹے سے کیڑے جسے Scables Miteکہتے ہیں سے پھیلتی ہے اور ایک دوسرے شخص کوساتھ بیٹھنے اٹھنے ہاتھ ملانے ایک دوسرے کے کپڑے اور بستر وغیرہ استعمال کعنے سے منتقل ہوتی ہے۔اس میں خاص طور پر رات کے وقت زیادہ خارش ہوتی ہے گو کہ خارش سارادن بھی ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ ہاتھوں بازوؤں‘پیٹ ٹانگوں اور مخصوص اعضاپروانے بنتے ہیں جوشدید صورتوں میں پیپ سے بھر سکتے ہیں بچوں میں یہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور چہرہ پربھی آسکتی ہے۔جیسا کہ ظاہر ہے اس کیلئے ہمیں تمام گھر والوں کااکٹھے علاج کرنا پڑتا ہے نہیں تو خارش ختم نہیں ہوتی۔اگر گھر کے ایک فرد کوبھی خارش ہوتو سب گھروالے چاہے انہیں خارش ہویانہ ہو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دواستعمال کریں کیونکہ جراثیم یاکیڑا سب میں پہنچ چکاہوتا ہے۔اگر گھر کایک فرد بھی دوالگائے بغیر رہ جائے تو وہ باقی گھروالوں کودوبارہ خارش کامرض دینے کاسبب بن سکتاہے۔ کسی قسم کی جلدی تکلیف کی صورت میں فوری طور پرماہرامراض جلد سے رجوع کرناچاہئے۔ گھریلو ٹوٹکے اور سنی سنائی بات پر اعتبار کرکے مختلف ٹیوبیں وغیرہ استعمال کرنے سے نقصان اور تکلیف کے بڑھنے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ جن کوجلد خشک اور حساس ہوانہیں بھی سردی کے موسم میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔جلد کومختلف قسم کے کیمیکلز صابنوں اور ڈٹرجنٹ وغیرہ سے بچائیں۔گھر کاکام کرنے والی خواتین بالخصوص برتن دھونے کپڑے دھونے اور صفائی وغیرہ کاکام میں احتیاط کریں اگر جلد حساس ہے تو ایسے کام حفاظتی وستانے پہن کرکریں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں