'فالج کے ناقابل علاج مریضوں کا علاج ممکن'
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
paralysis treatment

فالج کے شکار ایسے افراد، جن کے بارے میں تصور کیا جارہا تھا کہ وہ زندگی بھر کے لیے معذور یا وہیل چیئر تک محدود ہوگئے ہیں، انقلابی اسٹیم سیل طریقہ علاج کے بعد دوبارہ سے چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔

امریکا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے 18 مریضوں پر اس نئے طریقہ علاج کی آزمائش کی، جنھوں نے ڈاکٹروں کو کھوپڑی میں سوراخ کرکے اسٹیم سیلز دماغ کے متاثرہ حصے میں انجیکٹ کرنے کی اجازت دی اور اب ان کی حالت میں 'حیرت انگیز' طور پر بہتری آئی ہے۔ زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مذکورہ فالج کے مریض وہ تھے جنھیں مفلوج ہوئے 6 ماہ سے 3 سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس سے پہلے طبی ماہرین کا ماننا تھا کہ 6 مہینے کے بعد دماغ کو دوبارہ ٹھیک کرنا ممکن نہیں، لیکن اس نئے طریقہ علاج میں ایک بالغ دماغ کو بچے کے دماغ میں تبدیل کردیا جاتا تاکہ وہ اپنی تشکیل خود دوبارہ کرسکے۔ محققین کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ علاج الزائمر، پارکنسن اور دیگر دماغی امراض کے شکار افراد کے علاج میں بھی مددگار ثابت  ہوگا۔ محقق پروفیسر گرے اسٹین برگ نے اس حوالے سے بتایا کہ ' فالج کے لاعلاج سمجھے جانے والے مریضوں کی حالت میں بہتری واقعی حیران کن ہے، وہ پہلے انگوٹھوں کو بھی حرکت نہیں دے سکتے تھے، لیکن اب وہ ایسا کرسکتے ہیں، جبکہ جو مریض وہیل چیئر پر تھے، اب وہ چلنے لگے ہیں اور ان کی جسمانی سرگرمیوں کی اہلیت واضح ہونے لگی ہے "۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے ماضی کا یہ تصور چکنا چور ہوگیا کہ 6 ماہ کے بعد فالج کے اثر سے نکلنا ممکن نہیں کیونکہ دماغی سرکٹس مردہ یا ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہوجاتے ہیں تاہم ہمارے طریقہ علاج کے بعد ان سرکٹس میں نئی زندگی آئی ہے۔ اب تحقیقی ٹیم دوسرے مرحلے میں 153 مریضوں پر اس طریقہ علاج کو آزما کر دیکھ رہی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس بار پہلے جیسے نتائج سامنے آتے ہیں یا نہیں۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں