جوڑوں کے درد کا قدرتی اور مستقل علاج
pain treatment natural tips pairs

جوڑوں کا درد یا سوجن ایک تکلیف دہ مرض ہے جو عموماً عمررسیدہ افراد میں ہوتا ہے لیکن آج کل یہ بچوں اور نوجوانوں میں بھی پایا جا رہا ہے۔

عام طور پر جوڑوں کے درد یا سوجن کا علاج تین طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ جوڑ میں انجیکشن، سرجری، جبکہ دواﺅں کے ذریعے علاج سب سے آسان ہے، لیکن مختلف اوقات میں ہونے والی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے ان طریقوں سے عارضی علاج تو ممکن ہے لیکن بیماری کا مستقل خاتمہ نہیں ہوتا۔ یہاں ہم آپ کو چند ایسے گھریلو ٹوٹکے بتائیں گے کہ جن کو اختیار کرنے سے آپ نہ صرف اس بیماری کو حملہ آور ہونے سے روک سکتے ہیں بلکہ بیمار کا شکار ہونے پراس کا مختلف غذاﺅں کے ذریعے قدرتی علاج بھی کر سکتے ہیں۔

ہلدی اور ادرک کی چائے

ہلدی اور ادرک کی چائے میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی ٹاکسائیڈ شامل ہیں، جو جوڑوں کے درد یا سوجن میں نہایت فائدہ مند ہیں۔ جوڑوں کے درد یا سوجن کے علاج کے لئے آپ دوکپ ابلے ہوئے پانی میں آدھا، آدھا چمچ پسی ہوئی ادرک اور ہلدی کے ساتھ ذائقہ کے لئے تھوڑا سا شہد ملا کر استعمال کریں۔

میگنیشیم

میگنیشیم ہمارے جسمانی پٹھوں کو آرام پہنچانے کے ساتھ جوڑوں کے درد کا بھی شافی علاج ہے۔ امریکی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ میگنیشیم سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں، ان کی ہڈیاں مضبوط اور انہیں کبھی جوڑوں میں درد جیسی تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

زیتون کے تیل کی مالش

زیتون کے تیل سے جوڑوں کی مالش کرنے سے ان میں درد پیدا ہونے یا ہڈیوں کا گودا ختم ہونے کے امکانات بہت حد تک کم ہوجاتے ہیں۔

سنہری کشمش

کشمش کے ذریعے جوڑوں کے درد کا علاج گزشتہ 20سال سے شہرت پا رہا ہے اور بعض لوگ تو اس طریقہ علاج کی کامیابی کی قسم تک کھاتے ہیں۔ کشمش میں شامل سلفائیڈز جوڑوں کے درد کا قدرتی اور آسان علاج ہے لیکن یاد رہے کہ کشمش صرف سنہری رنگ کی ہونی چاہیے۔

پیسٹن (سفیدہ) اور انگور کا جوس

پیسٹن میں شامل اجزاءانسانی جسم کے جوڑوں کو جوڑے رکھنے کے لئے نہایت مفید ہے یعنی جوڑوں میں پیدا ہونے والے خلا سے انسان جس تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے، پیسٹن کا استعمال اس خلا کو پیدا ہونے سے روکتا ہے۔ انگور کے جوس میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی بائیوٹکس ہوتے ہیں جو جوڑوں کے درد میں آرام پہنچاتے ہیں۔

ورزش

غذاﺅں کے علاوہ روزانہ ورزش کو ضرور اپنا معمول بنائیں کیوں کہ ورزش کا نعم البدل کوئی غذا یا دواءنہیں ہو سکتی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں