ہمارے آباؤ اجداد کی بہتر صحت کی 7 وجوہات
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
improve reason health

اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آج کے دور میں روز مرہ کی زندگی میں ہم جن عادات اور غذائی نظام کو اپنائے ہوئے ہیں وہ صدیوں تک ہمارے آباؤاجداد کی جانب سے اپنائی گئی عادات اور غذائی نظام سے قدرے مختلف ہیں۔

ہم دن بھر میں تین بڑے کھانوں پر انحصار کرتے ہیں اور ان کھانوں کے درمیان بھوک محسوس ہونے پر ہلکے پھلکے "اسنیکس" کا سہارا لیتے ہیں۔ جب بیمار ہوتے ہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تاکہ اس سے وافر دوائیں لے کر جلد اپنی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنے اکثر کام کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ختم کرتے ہیں بلکہ ہم تو کمپیوٹر کے ذریعے خریداری بھی کر لیتے ہیں۔ تاہم اگر ہم اپنے آباؤاجداد اور سابقہ نسلوں کے طرز زندگی کا جائزہ لیں کہ وہ کس طرح سے اچھی صحت اور مستقل سرگرمیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ ہم خود کو بدلنے کے بارے میں سوچیں اور "اس خوبصورت وقت کی طرف لوٹنے" کی فکر کریں۔ ہمارے آباؤاجداد اتنی مقدار میں خوراک نہیں کھایا کرتے تھے جتنی آج ہم کھاتے ہیں۔ وہ لوگ آج کے ہمارے الکٹرونک دور میں کی جانے والی مشقت سے 10 گنا زیادہ محنت اور مشقت کیا کرتے تھے۔ وزن کی کمی کے لیے وہ کسی خاص غذائی پروگرام کو نہیں اپناتے تھے اور نہ وہ ورزش کے واسطے "جِم" جانا جانتے تھے۔ صحت کے امور سے ماہرین نے اس طرز زندگی اور غذائی نظام کو جاننے کی کوشش کی ہے جس کے سبب پرانے وقتوں کے لوگ اپنے آج کے پوتے اور نواسوں سے بہتر صحت رکھتے تھے۔ ان وجوہات کا خلاصہ 7 حقائق میں پیش کیا گیا ہے۔ پہلی حقیقت بعض طبی تحقیقوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ "جزوی فاقے" یا دن کے کسی ایک حصے میں کھانا کھانے سے بعض امراض مثلا ذیابیطس، سرطان اور دل سے متعلق بعض مسائل کے خطرات کم کیے جاسکے ہیں۔ ہمارے آباؤاجداد دن میں ایک بنیادی کھانا کھانے کو ترجیح دیا کرتے تھے جو غروب آفتاب سے قبل ہوتا تھا۔دوسری حقیقت بہت سی طبی تحقیقوں سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ "جزوی فاقے" کے دوران مفید عناصر سے بھرپور غذا لینے پر توجہ مرکوز رکھنے سے دماغ کو سرگرم کیا جا سکتا ہے اور اس طرح اس کی کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے، جس کے نتیجے میں ادراک کے حواس مضبوط ہوتے ہیں اور یادداشت بہتر ہو جاتی ہے۔ تیسری حقیقت ہمارے آباؤاجداد غروب آفتاب سے قبل بنیادی کھانا کھا کر سویرے سو جایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے انہیں رات میں بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہ چیز ان کے لیے پرسکون اور گہری نیند لینے میں بھی مددگار ہوتی تھی۔ چوتھی حقیقت ہمارے آباؤاجداد نے اپنے کھانوں میں زیادہ تر بغیر پکی خوراک بالخصوص سبزیوں اور پھلوں پر پر انحصار کرتے تھے اور یقینا انہوں نے زیادہ پکے ہوئے کھانوں کی عادت نہیں ڈالی۔ پانچویں حقیقت صحت مند طرز زندگی اور مفید غذائی روٹین کے پیش نظر ہمارے آباؤاجداد کے چہروں پر بڑھاپے کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی تھیں اور یہ لوگ میک اپ کی اشیاء کے بارے میں جانتے تک نہ تھے۔ چھٹی حقیقت چوں کہ ہمارے آباؤاجداد نے کمپنیوں اور کارخانوں کے اندر دفتری کام نہیں کیے اس لیے وہ روزانہ کے کام میں دباؤ کا شکار بھی نہیں ہوئے۔ آج جب کہ ہم اپنے کاموں کو روک نہیں سکتے ایسے مِں ہمیں حتی الامکان یومیہ زندگی کے دباؤ سے دور رہنے کی کوشش کرنا چاہیے کیوں کہ یہ تمام شعبوں میں ہم پر منفی طور اثر انداز ہوتا ہے۔ ساتویں حقیقت ہمارے آباؤاجداد اپنے امراض کا علاج ڈاکٹروں اور دواؤں کے بغیر قدرتی طریقے سے کرنے کے عادی تھے۔ تاہم آج ہم نے کسی بھی بیماری کے علاج یا محسوس کی جانے والی تھکن سے جان چھڑانے کے لیے دوا کی گولیاں کھانا اپنے لیے نہایت آسان کر لیا ہے۔ ان حقائق سے آگاہی کے بعد... اب آپ نے جان لیا کہ آپ کے باپ دادا آپ سے بہتر صحت کیوں رکھتے تھے؟

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں