ہارٹ اٹیک اور کینسر؛ نئی تحقیق نے کیا بتایا؟
heart attack treatment cancer

ہارٹ اٹیک اور کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت

اگر کہا جائے کہ کینسر اور ہارٹ اٹیک اس وقت دنیا کے خطرناک ترین اور انتہائی موضی مرض ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ اگرچہ ان بیماریوں کا علاج موجود ہے، تاہم اب پہلی بار ان امراض کے علاج میں اہم اور حیران کن پیش رفت ہوئی ہے، جس پر کئی ماہرین صحت خود بھی حیران ہیں۔ نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ہارورڈ میڈیکل اسکول بوسٹن میساچوٹس اور برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی زیر نگرانی دنیا کے 39 ممالک میں ایک طویل تحقیق کی گئی۔ تحقیق میں 39 ممالک کے ایک ہزار ڈاکٹرز، جب کہ 10 ہزار مریضوں نے حصہ لیا، یہ تحقیق 4 سال تک جاری رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں جن مریضوں کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں، وہ تمام دل کے امراض میں مبتلا تھے، جن میں سے زیادہ تر ایسے تھے، جنہیں ایک بار ہارٹ اٹیک ہوچکا تھا۔ تحقیق میں ایسے مریض بھی شامل تھے، جنہیں 2 بار دل کا دورہ پڑ چکا تھا، جب کہ دیگر مریض بھی دل کی بیماریوں اور کینسر میں مبتلا تھے۔ ان مریضوں کو 4 سال کے دورانیے تک ’کینا کینیومب‘ (Canakinumab) کا انجکشن دیا جاتا رہا۔ مریضوں کو باقاعدگی کے ساتھ مسلسل 4 سال تک اس دوا کے ڈوز دیے جاتے رہے، جس کے بعد اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے اخذ کردہ نتائج کے مطابق دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو اگر ہر تین ماہ بعد ’کینا کینیومب‘ کا انجکشن دیا جائے تو ان میں دل کا دورہ پڑنے کے 24 فیصد امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ’کینا کینیومب‘ کو باقاعدگی سے استعمال کرنے والے ہارٹ پیشنٹ میں 17 فیصد اینجیوپلاسٹی اور سرجری کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس دوا کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا افراد کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔ نتائج کے مطابق کینسر کے مریضوں کو یہ دوا دیے جانے سے ان کی بیماری بڑھنے کے امکانات 50 فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ تحقیق کاروں نے یہ رپورٹ سب سے پہلے بارسلونا میں یورپین سوسائٹی آف کارڈیولاجی کانگریس کے سامنے پیش کی، جس کی منظوری کے بعد اسے انگینڈ کے سائنس جرنل میں شائع کیا گیا۔ بعد ازاں اس رپورٹ کو برطانوی میڈیا میں بھی شائع کیا گیا۔ خیال رہے کہ ’کینا کینیومب‘ (Canakinumab) پہلے ہی مختلف دوائی ساز کمپنیاں تیار کرتی ہیں، اس دوا کو فالج سمیت دیگر امراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوا انسانی جسم کے لیے اینٹی بائیوٹک کا کام کرتی ہے، جو انسان میں کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور نظام ہاضمہ کے خراب ہونے کےوقت مؤثر طریقے سے کام دکھاتی ہے، تاہم اس دوا کو دل کے مریضوں کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس دوا کو سب سے پہلے ’نووارٹس‘ نامی کمپنی نے تیار کیا تھا۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں