انرجی ڈرنکس کا استعمال کرسکتا ہے صحت کو تباہ
energy drinks can effect the healt

طالب علم اکثر امتحانات سے قبل راتوں کو جاگ کر تیاری کرتے ہیں اور انرجی ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان انرجی ڈرنکس سے صحت کو متعدد خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں اور یہ فائدے سے زیادہ نقصان کا سودہ بن سکتا ہے۔

متعدد ریسرچز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انرجی ڈرنکس رات گزارنے میں مددگار ہوتے ہیں تاہم ان کا اثر ختم ہونے کے بعد دوسرے دن یہ متلی اور زیادہ سونے کا بھی باعث بنتے ہیں۔اس کے علاوہ ان ڈرنکس میں کیفین اور شکر کافی زیادہ مقدار میں شامل ہوتی ہے جس سے دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور برے فیصلے کرنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ روڈز یونیورسٹی میں ہونے والی ایک ریسرچ میں انرجی ڈرنکس کو دوروں، ذیابیطس، ڈپریشن اور دیگر بیماریوں سے منسلک کیا گیا۔اس لیے والدین اور اساتذہ طالب علموں کو ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں اور انہیں دیگر طریقوں کا اپنانے کی صلاح دیں۔ ان طریقوں میں کانسلنگ، گروپ تھیریپی سیشنز، خود کو سکون پہنچانے والے طریقے اور دیگر طریقے شامل ہیں۔

معروف سائیکالوجسٹ کیتھیرین سلیئرز کے مطابق انرجی ڈرنکس سے پریشانی، گھبراہٹ، ضرورت سے زیادہ پسینہ آنا اور دیگر شکایات ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لگاتار استعمال سے نیند متاثر ہوتی ہے اور کھانے پینے میں دلچسپی ختم ہونے لگتی ہے۔اس لیے انرجی ڈرنکس کے بجائے صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔ ورزش کریں، مناسب تعداد میں پانی پیئیں، صحت مند کھانے کھائیں تاکہ آپ کے اندر انرجی دن کے ہر حصے میں برقرار رہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں