دانتوں سے ٹارٹر کے داغ مٹانا بہت آسان
  • 1
  • 0

http://tuition.com.pk
easy pain teeth

دانتوں پر جما میل یا ٹارٹر کس کو پسند ہوسکتا ہے بلکہ اس کا نظر آنا خوفزدہ کردیتا ہے۔

یہ پلاک کی بدترین قسم ہے اور یہ اس وقت دانتوں پر نظر آتی ہے جب 3 سنہرے اصولوں برش، خلال اور صفائی کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔جب آپ اس ٹارٹر کو دانتوں سے ہٹاتے نہیں تو یہ وقت کے ساتھ سخت ہوتا جاتا ہے جبکہ مسوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ایسے داغ منہ کھولنے پر شخصیت کو کتنا بدنما بناتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو ہمارے ارگرد موجود چند عام چیزیں آپ کی مسکراہٹ کو روشن کرسکتی ہیں یا یوں کہہ لیں دانتوں کو جگمگا سکتی ہیں۔

بیکنگ سوڈا اور نمک

یہ بہت سادہ مگر ٹارٹر کو ہٹانے کا موثر ٹوٹکا ہے، ایک کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا میں ایک چٹکی نمک کو ملائیں اور اس مکسچر کی کچھ مقدار ٹوتھ برش پر چھڑک دیں یا ٹوتھ پیسٹ میں شامل کردیں۔ اس ٹوٹکے کو ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہ آزمائیں۔

امرود

یہ پھل اور اس کے پتے بھی قدرتی طور پر پلاک اور ٹارٹر کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں، ان دونوں میں اینٹی پلاک ایجنٹ موجود ہیں اور یہ مسوڑوں کی سوجن میں بھی کمی لاتے ہیں۔ بس امرود کے صاف پتوں کی کچھ مقدار کو روز چبا کر تھوک دیں، جس سے دانتوں پر میل جمنے کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ ایک کچے امرود پر نمک چھڑک کر دن میں ایک یا دو بار چبانا بھی مدد دیتا ہے۔

سفید سرکہ

سفید سرکہ جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے جو کہ دانتوں پر داغ اور ٹارٹر کو ہٹانے کے ساتھ دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔ سرکے میں موجود تیزابیت دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچاسکتی ہے تو اس کے لیے آدھے کپ پانی میں دو چائے کے چمچ سفید سرکہ اور آدھا چائے کا چمچ نمک ملائیں کر دن میں دو بار اس محلول سے کلیاں کریں۔

ایلو ویرا جیل

یہ کچھ کڑوا ضرور ہوسکتا ہے مگر ٹارٹر کو ہٹانے کے لیے جادو اثر ثابت ہوسکتا ہے، ایک چائے کا چمچ ایلو ویرا جیل، چار چائے کے چمچ گلیسرین، پانچ کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا، لیموں کا تیل اور ایک کپ پانی لیں، ان سب کو اچھی طرح مکس کریں اور اس محلول سے دانتوں کو صاف کریں۔ یہ عمل روزانہ اس وقت تک دہرائیں جب تک ٹارٹر ختم نہیں ہوجاتا۔ اس کے بعد ہر تین یا چار روز بعد اس عمل کو دہرائیں۔

مالٹے کے چھلکے

ترش پھل عام طور پر پلاک سے بننے والے داغوں کی صفائی کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود ایسڈ ہے۔ تو مالٹے کے چھلکوں کو اپنے دانتوں پر 2 سے تین منٹ تک رگڑیں یا اس کا پیسٹ بناکر دانتوں پر لگائیں، اس کے بعد نیم گرم پانی سے کلی کریں، یہ عمل ہفتے میں کئی بار دہرائیں۔

تل

ایک کھانے کے چمچ تلوں کو منہ میں ڈالیں اور اچھی طرح چبائیں، چبا کر اس کا پیسٹ بنانے کی کوشش کریں اور نگلنے سے گریز کریں۔ اس کے بعد دانتوں پر اس پیسٹ سے برش کرلیں، یہ عمل ہفتے میں دو بار دہرائیں۔

لونگ

یہ مصالحہ دانتوں کے درد سے تو نجات دلاتا ہی ہے مگر دانتوں کی صفائی کے لیے بھی فائدہ مند ہے، لونگ کو پیش کر پاﺅڈر بنالیں، اس میں تھوڑا سا زیتون کا تیل شامل کریں اور اس مکسچر کو داغوں سے متاثرہ حصے میں لگائیں۔ اسی طرح لونگوں کو چبانا سانس کی بو سے نجات دلاتا ہے جبکہ بیکٹریا کو مارتا ہے۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں