کینسر کے خاتمے کیلئے انقلابی ’زندہ دوا‘
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
cure treatment cancer

 
امریکا میں دوا اور طریقہ علاج منظور کرنے والے ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی‘ (ایف ڈی اے) نے کینسر کے ایک انقلابی طریقہ علاج کی منظوری دیدی ہے جسے ’زندہ دوا‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس طریقہ علاج میں مریض کے جسم کے اپنے ہی جسمانی دفاعی (امنیاتی) نظام کو استعمال کیا جاتا ہے اور یہ 83 فیصد کامیابی سے مریض کو بلڈ کینسر سے نجات فراہم کر سکتا ہے۔ مریض کا امنیاتی نظام ہی کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔ ایف ڈی اے نے اپنے بیان میں اس طریقہ علاج کو تاریخی قرار دیتے ہوئے ایک نیا باب قرار دیا ہے تاہم اس کی قیمت بہت زیادہ ہے جو 475,000 ڈالر یعنی قریباً 5 کروڑ روپے پاکستانی ہے۔ اس عمل میں ہر مریض کے خون کے سفید خلیات کو نکال کر جینیاتی طور پر تبدیل کر کے انہیں کینسر کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائےگا۔ یہ تکینک سی اے آر ٹی کہلاتی ہے جس میں سفید خلیات کو جینیاتی سطح پر تبدیل کر کے دوبارہ مریض میں داخل کر دیا جاتا ہے جو بدن میں بڑھتے ہوئے کینسر کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ جین تھراپی کا ایک شاہکار ہے جس سے ہر مریض کے لیے اس کی بیماری اور کیفیت کے لحاظ سے خود اس کے جسم سے دوا بنائی جاتی ہے۔ فی الحال اسے بلڈ کینسر کی ایک قسم لمفوبلاسٹک لیوکیمیا کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوا کو کائمریا کا نام دیا گیا ہے جو جلد ہی دستیاب ہو گی۔ جب اسے مریضوں پر آزمایا گیا تو ان کی بڑی تعداد پر دوا نے کام کیا۔ اس دوا کو جب پہلے مریض پر آزمایا گیا تو وہ موت کے قریب پہنچ چکا تھا اور اب پانچ سال ہو گئے اور وہ کینسر سے پاک اور صحتیاب ہے۔ دوسری جانب 63 مریضوں کی 83 فیصد تعداد میں علاج کے پہلے تین ماہ میں زبردست فرق دیکھا گیا اور ان کا کینسر کم ہوا۔ ماہرین پرامید ہیں کہ سی اے آر ٹی دیگر اقسام کے بلڈ کینسر کے لیے بھی یکساں طور پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی بہتر سے بہتر ہوجائے گی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں