ٹیڑھے میڑھے دانتوں کے اسباب و علاج
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
causes treatment teeth

اگر آپ کے دانت بے ڈھنگے اور بے ترتیب ہیں تو اس حوالے سے قطعی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ دانتوں کی اصلاح اب ایک فن ہوگیا ہے۔

پچیس سال قبل مسیح کا ایک یونانی معالج لکھتا ہے کہ’’ایسے دانتوں کی اصلاح اُنگلی کے دباؤ سے کی جاسکتی ہے۔‘‘ انیس ویں صدی میں اس کام میں باقاعدہ دلچسپی لی جانے لگی اور پھر ان دانتوں کی اصلاح پٹیوں ،بندھنوں اور شکنجوں کے ذریعے کی جانے لگی اور پھر ان بندھنوں کی تیاری،استعمال اور ان کی شکل و وضع کا ایک سلسلہ چل نکلا۔اسباب دانتوں کے ٹیڑھا ہونے کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک وجہ جگہ کی کمی ہوتی ہے اور یہ صورتحال اس وقت پیش آتی ہے جب جبڑوں کے لحاظ سے دانت بڑے ہوتے ہیں یا جب زائد دانتوں کی وجہ سے انھیں جبڑے میں سمانے کی جگہ نہیں ملتی،یعنی جب جبڑے میں دانت زیادہ نکل آتے ہیں۔ یہ دانت مختلف اوقات میں نکلتے ہیں اور جب جگہ کم ہوتی ہے تو بعد میں نکلنے والے دانت جبڑے کی قوس میں بے ٹھکانہ بن کر رہ جاتے ہیں۔اکثر اوقات ایسے بچے جو طویل عرصہ تک انگوٹھا چوستے ہیں یا بوتل سے زیادہ عرصہ تک دودھ پیتے ہیں۔ ہر وقت چوسنیاں منہ میں دبائے رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی ان کے سامنے کے دانت اوپر یا باہر کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ بوتل چوسنی یا انگوٹھے چوسنے کی عادت کترنے والے پکے دانتوں کے نکلنے سے پہلے ختم کروا دینی چاہیے۔ یعنی چھ سال کی عمر تک۔ ایک سے پانچ سال کی عمر میں دانتوں کے درمیان خلا قدرتی ہوتا ہے جو سات سال کی عمر کے بچوں میں رہتا ہے۔ یہ معمول کی بات ہے کیونکہ ابھی کچلیاں نکلنی باقی ہوتی ہیں اور ان کے نکلنے کے بعد یہ خلا یا گیپ خود ہی بھرجاتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے باوجود بھی اگر خلا یا گیپ برقرا ررہے تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔۱۔دانتوں کا چھوٹاہونا یا نوکیلا ہونا۔۲۔ دانت تو عام سائز کے ہوں لیکن جبڑا بڑا ہو۔۳۔ انگوٹھا یا ہونٹ چوسنے سے بھی خلا پیدا ہوجاتا ہے۔۴۔ اوپر کے ہونٹ کے مسوڑھوں سے ملانے والا موٹا گوشت جو کانٹے والے دانتوں کے درمیان انھیں ایک دوسرے سے جڑنے نہیں دیتا۔۵۔بعض اوقات سامنے کے دانتوں کے پیچھے موجود پوشیدہ دانت کی وجہ سے بھی کانٹے یا کترنے والے دانت الگ الگ رہتے ہیں۔ایسے دانت آپ کی مسکراہٹ کے دشمن ہوتے ہیں۔ان کی اصلاح کرکے آپ اپنی مسکراہٹ کو دلآویز اور لازوال بناسکتے ہیں۔ گویا ایسے دانت آپ کی شخصیت کو مسخ کرتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ ہم ابتدائی عمر میں ان باتوں پر خصوصی توجہ دیں جن کی وجہ سے بچوں کے دانت ٹیڑھے ہوجاتے ہیں۔ وہ اس کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔مسواک کے سلسلے میں یہ بات صدیوں سے تسلیم کی جاتی رہی ہے کہ اس کے ابتدائی عمر سے باشعور اور صحیح استعمال کے ذریعے بے ڈھنگے دانت آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ یہ بات تو آپ بھی جانتے ہیں کہ ترتیب سے جمے ہوئے سیدھے دانت آپ کی مسکراہٹ میں جان ڈال دیتے ہیں اور انکا صاف رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔ دونوں جبڑوں میں اپنی اپنی جگہ جمے ہوئے سیدھے دانت تین طرح سے بے ڈھنگے ہوسکتے ہیں۱۔دونوں جبڑوں میں یکسانیت نہ ہوتو دانت باہر نکل آتے ہیں۔ ۲۔نیچے اور اوپر کے دانت بے ترتیب ہونے سے بھی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔ ۳۔ نچلے دانت اوپر کے دانتوں کے بالکل نیچے نہیں ہوتے بلکہ بٹے ہوئے ہوتے ہیں جس سے خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔دانت اگر باہر نکلے ہوئے ہوں تو ان کے زخمی ہونے اور ٹوٹنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر دونوں جبڑے ایک ترتیب سے نہ ہوں تب بھی یہ صورتحال پیش آسکتی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو ایسی صورتحال میں ان کی اصلاح جلد ازجلد نہ کی جائے تو مسوڑھوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اپنی شخصیت کے نکھار کو بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بے ڈھنگے جبڑوں اور دانتوں کی بروقت اصلاح کروالی جائے۔ اس صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی فوری علاج آپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ ٹیڑھے میڑھے دانتوں یا جبڑوں کا علاج خاصا صبر آزما بھی ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دانتوں کی درستگی میں دوسال بھی لگ سکتے ہیں اور اگر جبڑوں کی اصلاح ضروری ہوتو دس برس بھی ان کی درستگی کے لیے درکار ہوسکتے ہیں۔علاوہ ازیں علاج کے دوران دانتوں کی صفائی مسئلہ بن جاتی ہے۔غذائی ذرّات دانتوں میں بہت زیادہ پھنستے ہیں ایسے میں میٹھی اشیاء کا استعمال مزیدپیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ ہردوصورتوں میں دانتوں کی صفائی میں بھرپور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے۔دانتوں کے علاج کے دوران بچوں کو نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں اس تکلیف سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ شروع میں بچوں کے دانتوں کی صحت پر بھرپور توجہ دیں۔ ویسے بھی ٹیڑھے دانتوں سے مسکراہٹ ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ ان کی صفائی بھی دردِ سر بن جاتی ہے۔ خاص طورپر لڑکیوں کے لیے ایسے دانتوں کا ہونا بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے انھیں ٹھیک کرانا بہت ضروری ہے۔اگر ایسے بچوں کا بروقت علاج نہ کروایا جائے تووہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں اور تقریبات میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ایسے بچوں کا علاج کروائیں تاکہ وہ عام صحت مند بچوں کی طرح خوشگوار اور احساس کمتری کے بغیر زندگی گزاریں

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں