منہ کے السر کے اسباب اور علاج
  • 0
  • 0

http://tuition.com.pk
blisters treatment

منہ کے ا لسر کی ابتدا میں سنسناہٹ اور جلن محسوس ہوتی ہے۔

پھر منہ میں سرخ گلٹی بن جاتی ہے جو السر یا زخم کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ قلاعی السر (Aphthous ulcers)سب سے زیادہ عام ہیں جو چپٹے، سفیدی مائل، بہت نازک اور تکلیف دہ زخم یا ناسور ہوتے ہیں ، جن کے اردگرد سرخ ٹشوز کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ یہ السر زبان، مسوڑھوں یا گال کے اندرونی حصے میں اور اکثر ہونٹ میں بنتا ہے جس سے بولنے اور کھانے میں مشکل ہوتی ہے۔ بعض اوقات شدید مسائل بھی پید اہوجاتے ہیں۔ منہ کا السر بچپن میں شاذ ہی ہوتا ہے۔ لیکن بڑے ہونے کے بعد اس سے بہت واسطہ پڑتا ہے۔ برطانیہ کے اعدادو شمار کے مطابق وہاں ہر تین میں سے دو کو یہ تکلیف ہوجاتی ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہیں، جن میں ایک یہ بھی ہے کہ گال کا اندرونی حصہ دانتوں کے نیچے آجائے اور کٹ جائے۔ کسی غذا سے الرجی اور حیاتین ب12،فولک ایسڈ، فولاد یا جست کی کمی بھی السر کی وجہ ہوسکتی ہے۔ بعض خواتین کوماہواری کے دوران میں السر کی شکایت ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر یہ اچانک اور بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہوتے ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ قلاعی السر کو چھیڑنے کے بجائے انھیں خود ہی ٹھیک ہونے دیا جائے۔ لیکن اگر درد شدید ہوتو معالج سے مشورہ کرلیناچاہیے۔ یہ خیال رہے کہ اینٹی بایوٹکس اور کلی یا غرغرے والی دوائیں مناسب نہیں۔ یہ السر بیکٹیریا کے باعث نہیں ہوتے اور اگر ان بیکٹیریا کو جو معمول کے مطابق منہ میں رہتے ہیں ان دواؤں سے تلف کردیا جائے تو منہ کی بافت کے لیے تکلیف دہ انفیکشن کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم بعض معالجین ٹیٹرا سائیکلین ماؤتھ واش تجویز کرتے ہیں۔ جسے ایک وقت میں پانچ منٹ تک منہ میں رکھنا ہوتا ہے۔السر کا علاج نہ کیا جائے تو یہ عموماً چند روز بعد بہتر ہوجاتے ہیں اور تین ہفتے میں غائب ہوجاتے ہیں، لیکن اکثر یہ دوبارہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ کافی بڑی تعداد میں لوگوں کو یہ شکایت بھی ہوتی ہے کہ ہونٹوں کے آس پاس پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ اس شکایت کو تبخال کہتے ہیں۔ تبخال کے وائرس کی وجہ سے اکثر منہ کے اندر بہت سے تکلیف دہ زخم بن جاتے ہیں۔ خصوصاً جب اس وائرس کا جسم پرحملہ پہلی بار ہوتا ہے۔ یہ انفیکشن عموماً خودبہ خود ٹھیک ہوجاتا ہے اور ہمیشہ اس کے علاج کی ضرورت پیش نہیں آتی،لیکن اگر اس کا زور ہوتو معالج سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ تبخال کا السر ایک سے دوسر ے کو لگ سکتا ہے لہٰذا احتیاط کرنا چاہیے۔ اگر منہ کا السر تین ہفتے سے بھی زیادہ رہے یا سال میں تین چار بار سے بھی زیادہ لوٹ کر آئے تو یا اس کا تعلق بخار،اسہال،دردِسر،جلدی چٹھوں یا بیماری کے عام احساس جیسی علامات سے ہو تو معالج سے ضرور مشورہ کرلینا چاہیے۔ کیونکہ کبھی کبھار یہ السر شدید نوعیت کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جن میں منہ کا سرطان اور ایڈز بھی شامل ہیں۔ مروجہ دواؤ ں کے علاوہ کچھ گھریلو طریقے بھی منہ کے السر کے علاج کے لیے تجویز کیے جاتے ہیں۔ ایک علاج یہ ہے کہ کیتلی میں دس ٹی بیگ ڈال کر ان پر کھولتا ہوا پانی ڈالیے اور آدھے گھنٹے تک دم دیجیے۔ پھر اس میں سے آدھی پیالی نکال کر منہ میں ڈالیے اور پانچ منٹ تک گھماتے رہیے۔ پھر تھوک دیجیے یہ عمل دن میں چار بار کیجیے۔ اگر السر دیر تک رہے تو چائے دانی میں ایک چمچہ پسا ہوا جائفل، ایک چمچہ پسی ہوئی ادرک اور تین چمچے دار چینی ڈال کر اس پر کھولتا ہوا پانی ڈالیے اور بیس منٹ تک دم دیجیے۔ دم کے دوران میں ایک چھوٹی کٹی ہوئی مولی اس میں ملائیے۔ پھر اسے چھان کر دودوگھنٹے کے وقفے سے ایک پیالی پیجئے۔ بچوں کے لیے پالک کے پتے اور پسی ہوئی ملیٹھی کو پانی میں دس منٹ تک جوش دے کر ایک چائے کا چمچہ ہر چار گھنٹے بعد مناسب رہے گا۔ السر کے دوران میں گاجر،انگور اور ترش پھل خوب کھائیے

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں