ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے لاہور سمیت بڑے شہروں میں سروے شروع
government tax pti

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سنبھالنے کے بعد فیڈرل بورڈآفریونیو بھی ان ایکشن ، ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے شہروں میں میگا سروے کا آغاز کر دیا۔

ابتدائی طور پر نجی و پرائیویٹ ہسپتالوں ، نجی سکولوں ، پرائیویٹ کالجز ، معروف اکیڈمیز ، تمام شادی ہالز اور معروف ریسٹورنٹس کے کاروباری حجم اور حدود اربع کا بھی ریکارڈ مرت کیا جائے گا۔ سروے میں کسی بھی شخص کو رعائت فراہم نہیں کی جائے اور کوئی سیاسی اثرو رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا، ایف بی آر کی جانب سے آمدن چھپانے والوں اور کم آمدنی ظاہر کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سنبھالنے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی ان ایکشن میں دکھائی دینے لگا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ افسران سے ملاقات میں بھی ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے معاملات طے کئے گئے۔ جس کے بعد ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے شہروں میں میگا سروے کا آغاز کر دیا۔ اس ضمن میں ریجنل ٹیکس آفس نمبر 1 اور 2 کے ساتھ ساتھ لارج ٹیکس پیئر یونٹس کے اہلکار بھی فرائض سر انجام دے گے۔ذرائع کے مطابق تمام پرائیویٹ سکولز ، کالجز و اکیڈمیز کے حدود اربع ، کلاس رومز ، طلبا کی تعداد اور فیسوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ تمام پرائیویٹ ہسپتالوں کے رقبہ کا تعین کر کے ہسپتالوں کے وارڈز ، رومز اور مریضوں کو دستیاب سہولیات اور فیسوں کا بھی ریکارڈ مرتب کرے گا۔ اہلکاروں کی جانب سے ہسپتالوں کے اخراجات اور آمدن کو تعین اور شہر میں تمام ریسٹورنٹس ، شادی ہالز کے رقبہ کا بھی ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جس کی رپورٹ چیف کمشنر لینڈ ریونیو 1 اور 2 کو بھجوائی جائے جس کے بعد انکے خلاف چارج شیٹ یا سفارشات مرتب کی جائے گی۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق سروے کے بعد ریکارڈ مرتب کر کے ان سے ٹیکس وصولی کی جائے گی اور ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں موجود ہونے کے باوجود ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی تاکہ خزانے میں مزید اضافہ ممکن ہوسکے۔ موجودہ سروے میں کسی بھی شخص کو رعائت فراہم نہیں کی جائے اور کوئی سیاسی اثرو رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا تاہم اثرو رسوخ استعمال کرنیوالے کی رپورٹ وزیر خزانہ کو ارسال کی جائے گی۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں