سوئس حکومت نے معلومات تبادلہ کے معاہدہ کی منظوری دیدی
approved swiss banks information

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو فیڈرل بورڈ آ ف ریو نیو کے حکام نے آ گاہ کیا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستا نیو ں کی جانب سے جمع کرائی گئی رقم کے معاملہ پر معلومات کے تبادلہ کے حوالے معاہدے کی سوئس حکومت نے منظوری دیدی ہے

 معاہدے کے تحت 18جنوری سے معلومات کا تبادلہ شروع ہو جائے گا، منگل کو ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئر مین سنیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں سوِئزر لینڈ حکومت کیساتھ دوہرے ٹیکس کے تدارک اور پاکستانیوں کے سوئس بینکوں میں پڑی رقم کی واپسی کا ایجنڈا زیر غور آ یا۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو آ گا ہ کیا پاکستانیوں کے گزشتہ سال کے 200ارب ڈالر کی واپسی کھٹائی میں پڑی گئی ہے۔سوئس حکام کیساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مارچ 2017 میں ہوا کابینہ نے بھی منظوری دی ہے۔اگر گزشتہ اکاوئٹس کی معلومات مل گئی تو ان سے درخواست کر سکتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہاسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں کیوں کہا پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر واپس لائیں گے، جس پر ارکان کمیٹی نے کہااسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کی۔ڈار کے بیان سے پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح ہوا ۔ وزیر مملکت خزانہ رانا افضل نے کہا اسحاق ڈار نے سوئس بینک کا ایم ڈی کے بیان کا حوالہ دیا تھا۔ سوئس بنکوں میں کوئی پتہ نہیں رقم کتنی ہے ۔

تازہ ترین

اپنا تبصرہ چھوڑیں